اسلام آباد: ملک میں مہنگائی کے بوجھ تلے دبی عوام کے لیے ایک اور جھٹکا آنے کو ہے، کیونکہ آئندہ پندرہ روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 9 روپے 60 پیسے فی لیٹر تک اضافے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پیٹرولیم صنعت کے معتبر ذرائع کے مطابق اس متوقع اضافے کی بنیادی وجہ خلیجی خطے میں ڈیزل کی شدید کمی ہے، جس نے بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں کو اوپر کی جانب دھکیل دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ڈیزل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے زیادہ تر کویت پر انحصار کرتا ہے۔ تاہم کویت کی الزور ریفائنری میں جاری مرمتی کام نے خطے کے لیے ڈیزل سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس ریفائنری کے تین میں سے صرف دو یونٹس فعال ہیں جبکہ تیسرے یونٹ کی مرمت، جو نومبر کے آغاز میں مکمل ہونا تھی، مزید 15 روز کے لیے بڑھا دی گئی ہے۔
اس تاخیر کے باعث نہ صرف کویت بلکہ پورے خلیجی خطے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قلت پیدا ہو گئی ہے، جس نے عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمتیں بلند کر دی ہیں۔ پاکستان، جو پہلے ہی درآمدی بلوں کے دباؤ میں ہے، اب اس نئی صورتحال کا براہِ راست اثر برداشت کرنے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔
پیٹرولیم مارکیٹ سے منسلک ماہرین کے مطابق، عالمی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے باعث اوگرا کے پاس نئی قیمتوں میں اضافہ تجویز کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہے گا۔ اگر عالمی منڈی کے موجودہ رجحانات قائم رہے تو آئندہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں ڈیزل اور پیٹرول دونوں کی قیمتیں نمایاں سطح تک پہنچ سکتی ہیں۔
معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ڈیزل کی قیمت بڑھنے کا سب سے بڑا اثر ٹرانسپورٹ، زرعی شعبے اور مال برداری پر پڑے گا، جو بالآخر مہنگائی کی نئی لہر کو جنم دے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر متبادل سپلائرز سے معاہدے نہ کیے گئے تو بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
