لاہور:پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک احمد خان نے ایک اہم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملکی سیاسی و آئینی منظرنامے پر نہایت واضح اور دوٹوک مؤقف پیش کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ملک میں عدلیہ کے اندر جاری کشمکش اور بار بار سامنے آنے والے اختلافات کسی تکنیکی معاملے کا نتیجہ نہیں بلکہ چیف جسٹس بننے کی دوڑ سے جڑے ہوئے ہیں۔
ملک احمد خان نے کہا کہ ماضی میں متعدد عدالتی فیصلوں نے پارلیمنٹ کی آئینی گنجائش محدود کر دی۔ قانون سازی کے عمل میں غیر ضروری مداخلت نے ایسا ماحول پیدا کر دیا کہ عوام کا منتخب ایوان اپنے بنیادی اختیارات کا دفاع کرتے ہوئے بھی خوف محسوس کرنے لگا۔
انہوں نے کہا یہ حقیقت ہے کہ عدالتی فیصلوں کے ذریعے پارلیمنٹ کے اختیارات کو محدود کیا گیا۔ پارلیمنٹ کو آئینی طور پر ایک طرف دھکیل دیا گیا تھا، اور یہ صورتحال کسی بھی جمہوری ملک کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے
خطاب کے دوران انہوں نے وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کی حلف برداری کو تاریخی پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں آئینی نوعیت کے بڑے تنازعات کے حل کے لیے اب ایک منفرد فورم قائم ہو چکا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ آئینی عدالت وقت کی سب سے بڑی ضرورت تھی۔ سوال یہ ہے کہ تعیناتی کون کرے گا؟ ہائی کورٹ کون بنائے گا؟ اعلیٰ عدلیہ کی حدود اور دائرہ اختیار کا فیصلہ پارلیمان کو کرنا چاہیے، کیونکہ یہی ادارہ عوامی مینڈیٹ کا اصل امین ہے
ملک احمد خان نے ملکی دفاعی فورسز اور حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران جس تدبر، حوصلے اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ فخر ہے۔
انہوں نے کہا کہ عسکری اور حکومتی ذمہ داروں نے نہایت بہادری سے کام لیا۔ بھارت کی جانب سے کسی بھی اشتعال انگیزی کا بھرپور، منہ توڑ اور واضح جواب دیا گیا۔ یہ ثابت ہوا کہ پاکستان امن چاہتا ہے لیکن اپنی خودمختاری کے معاملے پر کسی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں۔
اپنے خطاب میں انہوں نے انکشاف کیا کہ عدلیہ میں جاری بحران ابھی تھمنے والا نہیں۔مزید استعفے بھی آئیں گے۔ جو کچھ ہو رہا ہے، یہ سب چیف جسٹس بننے کی جنگ ہے۔ یہ کشمکش عدلیہ کے وقار اور اعتماد دونوں کو متاثر کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدلیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان حدود کا واضح تعین وقت کی اہم ترین ضرورت ہے،ملک احمد خان کا بیان ملک کے حساس آئینی ماحول کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایک طرف عدلیہ کے اندر تقسیم، دوسری طرف پارلیمنٹ کے اختیارات پر قدغن یہ دونوں چیلنج آنے والے سیاسی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ تاہم، آئینی عدالت کا قیام مستقبل میں ادارہ جاتی توازن، آئینی شفافیت اور جمہوری تسلسل کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
