پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے آزاد کشمیر میں حکومت کی تبدیلی کے لیے بڑا قدم اٹھایا ہے اور وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سینیئر رہنما فیصل ممتاز راٹھور کو نیا قائد ایوان نامزد کیا گیا ہے۔ تحریک عدم اعتماد وزراء چوہدری قاسم مجید، سردار جاوید ایوب، ملک ظفر اقبال، اور ممبران اسمبلی علی شان سونی اور محمد رفیق نیئر نے جمع کروائی۔ یہ تحریک سپیشل سیکرٹری امجد لطیف عباسی کے پاس پیش کی گئی ہے۔
قبل ازیں وزیراعظم چوہدری انوارالحق کو استعفیٰ دینے کا پیغام بھجوایا گیا تھا، لیکن انہوں نے مستعفی ہونے سے انکار کیا۔ اسی کے بعد پیپلز پارٹی نے تحریک عدم اعتماد کا راستہ اختیار کیا، جس کی منظوری صدر مملکت آصف علی زرداری نے گزشتہ ماہ دی تھی۔ آزاد کشمیر کا ایوان 53 ارکان پر مشتمل ہے، اور وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کم از کم 27 ارکان کی حمایت ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی نے 26 اکتوبر کی رات سندھ ہاؤس اسلام آباد میں ڈنر کا اہتمام کیا، جس میں قانون ساز اسمبلی کے 27 ارکان نے شرکت کی، جبکہ پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کے 10 وزرا پیپلز پارٹی کے ساتھ شامل ہوگئے، جس سے پارٹی کو ایوان میں سادہ اکثریت حاصل ہوگئی۔ آئین کے مطابق، تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد 7 روز کے اندر ووٹنگ ہونا ضروری ہے، اور صدر ریاست 7 روز میں اسمبلی کا اجلاس طلب کر کے اسپیکر کے ذریعے ووٹنگ کراتے ہیں۔
فیصل ممتاز راٹھور آزاد کشمیر کے ایک بااثر سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ سابق وزیراعظم ممتاز حسین راٹھور کے فرزند ہیں، جبکہ ان کی والدہ بیگم فرحت راٹھور آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی رکن اور پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی صدر رہ چکی ہیں۔ راٹھور خاندان کو آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کے بانی خاندانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ فیصل راٹھور نے ابتدائی تعلیم راولپنڈی سے حاصل کی اور گریجویشن پنجاب یونیورسٹی سے مکمل کی۔
فیصل راٹھور نے 2006 میں پہلی بار قانون ساز اسمبلی کے حلقہ حویلی کہوٹہ سے انتخاب میں حصہ لیا، بعد ازاں 2011 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر رکن منتخب ہوئے اور چوہدری عبدالمجید کی کابینہ میں وزیر اکلاس اور وزیر برقیات کے فرائض انجام دیے۔ وہ 2021 میں دوبارہ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور ایوان میں موثر اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔ اپنی بردباری، نرم مزاجی اور بے داغ شہرت کی بدولت وہ عوام، سیاسی اور عسکری حلقوں میں یکساں مقبول ہیں۔ پارٹی قیادت انہیں بلاول بھٹو زرداری اور فریال تالپور کا قابل اعتماد ساتھی سمجھتی ہے، جبکہ وہ پارٹی کے نظریاتی اور متوسط طبقے کے نمائندہ رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
یہ تحریک عدم اعتماد آزاد کشمیر میں حکومت کی سیاسی حرکیات میں اہم تبدیلی کا پیش خیمہ ہے اور ایوان میں اقتدار کی کشمکش کے نئے باب کا آغاز سمجھا جا رہا ہے۔ اگر تحریک کامیاب ہوئی، تو یہ چوتھا وزیراعظم ہوگا جو اس 5 سالہ آئینی مدت میں اقتدار سنبھالے گا، جبکہ ناکامی کی صورت میں آئندہ 6 ماہ تک تحریک پیش نہیں کی جا سکتی۔
