اسلام آباد: وفاقی وزیربرائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کےبانی وسابق وزیراعظم عمران خان پر شدید تنقید کی ہے، اور ان کے دور حکومت کو ملک کی تاریخ کا سب سے سیاہ دور قرار دیا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ جو مہاتما آج اڈیالہ جیل میں بیٹھا ہے، وہ ہمیں چور اور ڈاکو کہتا تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نے ملک سے 190 ملین پاؤنڈ کا ڈاکا ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگ اسمبلی میں اس کے نعرے لگاتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ قیدی نمبر 804 نہیں بلکہ قیدی نمبر 420 ہے، جس نے قوم کو دھوکہ دیا ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید الزام لگایا کہ عمران خان کے دور میں ایٹمی طاقت کے وزیر اعظم کے فیصلے جادو ٹونے اور ٹوٹکوں پر مبنی تھے اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی ان فیصلوں میں اثر انداز ہوتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس میں بکروں کی سریاں جلائی جاتی تھیں، اور جو لوگ اس مداری کے پیچھے لگے، انہیں اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے۔
احسن اقبال نے پی ٹی آئی کے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ قوم سے معافی مانگیں، کیونکہ ان کے لیڈر نے ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا مالیاتی اور سیاسی ڈاکا ڈالا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے چار سالہ دور نے نوجوانوں کو صرف گالی گلوچ سکھائی اور ملک کی ترقی کو روکا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پنجاب میں وزیراعلیٰ نے ترقیاتی منصوبے شروع کر دیے ہیں، اور پالیسیوں کی کامیابی کے لیے امن، سکون اور استحکام ضروری ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے دہشت گردی کروا رہا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت دہشت گردی کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ قربانی کے جذبے نے معرکہ حق میں کامیابی دلائی، جسے فوج نے جیتا، جبکہ معرکہ ترقی شہری حکومتوں کو جیتنا ہوگا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے عمران خان کی ذاتی زندگی اور سیاسی معاملات پر تفصیلی رپورٹ شائع کی، جس میں بتایا گیا کہ بشریٰ بی بی عمران خان کے ہر فیصلے پر اثر انداز ہوتی تھیں، اور وزیراعظم سرکاری فیصلوں میں بھی رہنمائی حاصل کرتے تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی ذکر ہے کہ بشریٰ بی بی کے آنے کے بعد بنی گالہ میں روزانہ کالے بکرے یا مرغیوں کے سر قبرستان میں پھینکے جاتے، اور عمران خان کے سر پر کچا گوشت گھمایا جاتا اور لال مرچیں جلائی جاتی تھیں۔
