تہران میں عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خطے کی حالیہ صورتحال پر انتہائی سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ مغربی ایشیا میں کوئی بھی ملک اسرائیل کے خطرے سے محفوظ نہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اسرائیل اور امریکا کی مشرقِ وسطیٰ میں جاری پالیسیوں کو خطے کے امن، استحکام اور عالمی قوانین کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے پیدا کردہ جنگل میں مضبوط ہونا ہی واحد راستہ ہے، کیونکہ کمزور ممالک کو ہمیشہ نشانہ بنایا جاتا ہے۔
عباس عراقچی نے اسرائیل پر قتلِ عام، نسل کشی اور نسلی صفائی جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہونے کا واضح الزام لگایا اور کہا کہ اسرائیلی اقدامات نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ پورے خطے کے لیے وجودی خطرہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے مبینہ طور پر ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی نظام پر براہِ راست حملہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ایران نے اپنے جائز دفاع کے حق کا استعمال کیا تو حملہ آوروں کو سخت پچھتانا پڑا، اور 12 روزہ جنگ میں امریکا اور اسرائیل اپنے کسی بھی فوجی ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے مسئلے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں، کیونکہ مخالف قوتیں اس راستے کو پہلے ہی آزما چکی ہیں اور ناکام ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر سفارتکاری کا آغاز اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے ہوتا ہے کہ بات چیت، دباؤ اور دھمکی سے یکسر مختلف ہے۔ عراقچی نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ طاقت کے ذریعے امن کا نظریہ لے کر آئے، جو حقیقت میں ”زور زبردستی کے ذریعے بالادستی“ کی کھلی کوشش تھی۔ انہوں نے واشنگٹن میں وزیرِ دفاع کا نام بدل کر وزیرِ جنگ کہلانا جنگل کے قانون کی طرف واپسی سے تعبیر کیا۔
اپنے خطاب میں عباس عراقچی نے دنیا بھر کے بڑھتے ہوئے فوجی بجٹ پر بھی شدید تشویش ظاہر کی اور کہا کہ یہ رجحان مزید جنگ، تشدد اور کشیدگی کو جنم دے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل خطے میں امریکا کا ہتھیار ہے جو انسانیت کے خلاف سنگین جرائم میں ملوث ہے۔ انہوں نے امریکا کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی، اسلحے کی دوڑ شروع کرنے اور عالمی امن کے لیے خطرات پیدا کرنے پر بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ عراقچی کے اس خطاب کو خطے میں بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کے تناظر میں ایک مضبوط اور واضح پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
