ڈھاکا:بنگلہ دیش کی خصوصی عدالت انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے فیصلہ سناتےہوئے معزول وزیراعظم شیخ حسینہ واجدکوانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مظاہرین پر مہلک ہتھیار استعمال کرنے کے الزام میں مجرم قرار دے دیا ہے۔ تین رکنی بین الاقوامی پینل نے عدالت کے فیصلے میں کہا کہ شیخ حسینہ نے حکومت کے متنازعہ کوٹہ سسٹم کے خلاف مظاہروں کو کچلنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس میں ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز شامل تھے، اور نتیجتاً تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے۔
عدالت میں پیش ہونے والے 80 عینی شاہدین کی گواہیوں اور 400 صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ میں بیان کیا گیا کہ مظاہرہ کرنے والے طلبا اور شہریوں سے بات چیت کے بجائے ان پر براہِ راست فائرنگ کی گئی۔ اس ضمن میں، ڈھاکا میں چھ مظاہرین کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے الزامات بھی شامل تھے۔ عدالت کے فیصلے میں سابق وزیراعظم کے شریک ملزمان، جن میں سابق وزیر داخلہ اسد الزمان خان کمال اور سابق پولیس چیف چوہدری عبداللہ الممون بھی شامل ہیں، پر بھی الزام عائد کیا گیا۔
فیصلے سے قبل، شیخ حسینہ نے اپنے حامیوں کے لیے ایک آڈیو پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور **محمد یونس کی عبوری حکومت** پر جماعت کے خلاف کارروائی کرنے کا الزام عائد کیا۔ ان کے بیٹے اور مشیر **سجیب واجد** نے خبردار کیا کہ اگر عوامی لیگ پر عائد پابندی نہ ہٹائی گئی تو پارٹی کے حامی فروری 2026 کے قومی انتخابات میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 15 جولائی سے 5 اگست 2024 کے مظاہروں میں ہزاروں افراد زخمی ہوئے اور یہ بنگلہ دیش میں 1971 کی جنگ کے بعد سب سے بدترین سیاسی تشدد تھا۔ عدالت نے پانچ اہم الزامات کی بنیاد پر شیخ حسینہ کو مجرم قرار دیا، جن میں قتل کو روکنے میں ناکامی، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور مظاہرین پر طاقت کے غیر قانونی استعمال کے الزامات شامل ہیں۔
اس فیصلہ سے بنگلہ دیش کی سیاسی فضا میں شدید ہلچل مچ گئی ہے اور بین الاقوامی برادری کی نظریں اس فیصلے اور اس کے ممکنہ اثرات پر مرکوز ہیں، کیونکہ سابق وزیراعظم بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں اور ان کے تحفظ کی ذمہ داری بھارت کی حکومت نے لی ہوئی ہے۔
