لاہور: لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) نے 9 مئی کے جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں سابق گورنر پنجاب اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما عمر سرفراز چیمہ کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ اے ٹی سی کے جج منظر علی گل نے ضمانت بعد از گرفتاری پر فیصلہ سنایا، تاہم عدالت نے چیمہ کی دیگر ضمانتوں پر کارروائی 25 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔
تھانہ مغلپورہ پولیس نے عمر سرفراز چیمہ کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے، جس میں ان پر 9 مئی کو اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک گیر احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ اس احتجاج کے دوران فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری اور نجی املاک کو شدید نقصان پہنچا، اور کم از کم 8 افراد ہلاک جبکہ 290 زخمی ہوئے۔
لاہور میں مظاہرین نے کور کمانڈر کی رہائش گاہ (جناح ہاؤس) پر دھاوا بولا، جبکہ راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کے ایک گیٹ کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ جھڑپوں، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث تقریباً 1,900 افراد کو گرفتار کیا گیا، اور عمران خان اور دیگر پارٹی کارکنان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عدالت کی ضمانت کی منظوری عمر سرفراز چیمہ کے سیاسی کیریئر کے لیے ایک اہم موڑ ہے، جبکہ دیگر مقدمات کی کارروائی ملتوی ہونے سے قانونی تنازعات آئندہ دنوں میں بھی جاری رہنے کے امکانات روشن ہیں۔
