واشنگٹن/اسلام آباد: امریکی کانگریس میں پیش کی گئی حالیہ رپورٹ میں بھارت کے ساتھ مئی 2025 میں ہونے والی مختصر مگر شدید جھڑپ کے دوران پاکستان کی برتری کا اعتراف کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ امریکا-چین اکنامک سیکیورٹی ریویو کمیشن نے تیار کی ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان 7 مئی کو ہونے والی لڑائی کا تفصیلی جائزہ شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اس جھڑپ میں واضح برتری حاصل کی اور اس کی کامیابی میں چینی ہتھیاروں اور جدید ٹیکنالوجی نے اہم کردار ادا کیا۔ دستاویز میں بتایا گیا کہ پاکستان نے بھارتی رافیل طیارے گرانے کے لیے چینی میزائل سسٹمز اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی استعمال کی، جبکہ چینی انٹیلی جنس کی معاونت بھی حاصل رہی۔ رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ بھارت نے خود تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے جنگ کے دوران اس کے 109 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
امریکی کمیشن نے مزید کہا کہ بھارت نے الزام عائد کیا کہ چین نے براہِ راست پاکستان کی مدد کی، جس سے خطے میں اسٹریٹجک مقابلہ مزید بڑھا۔ رپورٹ میں چین اور پاکستان کے حالیہ مشترکہ فوجی مشقوں کا بھی ذکر ہے، جن میں 2024 کے آخر میں ہونے والی تین ہفتوں پر مشتمل وارئیر-VIII انسداد دہشتگردی مشقیں اور 2025 میں پاک بحریہ کی ملٹی نیشنل امن مشقیں شامل ہیں، جن میں چین کی شرکت ہوئی۔
رپورٹ میں پہلی بار چین کے جدید ہتھیاری نظام جیسے HQ-9 ایئر ڈیفنس سسٹم، PL-15 ایئر ٹو ایئر میزائل اور J-10 لڑاکا طیارے کے عملی استعمال کا ذکر بھی کیا گیا۔ اس کے علاوہ جون 2025 میں چین نے پاکستان کو 40 J-35 پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے، KJ-500 طیارے اور جدید میزائل دفاعی نظام فراہم کرنے کی پیشکش کی۔
پاکستان نے اسی دوران اپنے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافہ کرتے ہوئے 2025-26 کے لیے مجموعی بجٹ کو 9 ارب ڈالر تک بڑھا دیا۔ کمیشن نے واضح کیا کہ مئی کی جھڑپ میں پاکستان کی کامیابی نے چینی ہتھیاروں کی کارکردگی کو عالمی سطح پر ثابت کیا، اور چین کے سفارتخانوں نے اس کا کھل کر اعتراف کیا تاکہ بین الاقوامی سطح پر ہتھیاروں کی فروخت میں اضافہ کیا جاسکے
