اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ کے چار ججز نے 27 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جسے ملکی عدالتی اور سیاسی حلقوں میں ایک انتہائی اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس ثمن رفعت امتیاز اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے آئینی ترمیم کے خلاف درخواست کا ڈرافٹ تیار کر کے سپریم کورٹ کو بھیج دیا ہے، اور آج ہی اس معاملے کی سماعت متوقع ہے۔
آئینی ترمیم کے خلاف یہ درخواست اس کے قانونی جواز اور آئینی مطابقت پر سوالات اٹھاتی ہے اور عدالت عظمیٰ سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ترمیم کے اثرات اور اس کے قانونی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے۔ ہائی کورٹ کے ججز کا موقف ہے کہ ترمیم سے ملکی آئینی ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلیاں آئیں گی اور یہ عدلیہ کے بنیادی اختیارات اور آئینی ذمہ داریوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس چیلنج کا ملک کے آئینی اور سیاسی نظام پر گہرا اثر پڑنے کا امکان ہے، کیونکہ یہ اقدام عدلیہ کی خودمختاری، شفافیت اور آئینی عمل کی حفاظت کے نقطہ نظر سے اہم ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں اس سماعت کے دوران قانونی دلائل، آئینی تشریحات اور ترمیم کے ممکنہ اثرات پر تفصیلی بحث کی جائے گی، جس سے نہ صرف عدلیہ کی حیثیت مضبوط ہوگی بلکہ آئینی شفافیت کو بھی فروغ ملے گا۔
سیاسی حلقے اور آئینی ماہرین اس فیصلے کو ملک کے جمہوری ڈھانچے، آئینی اصولوں اور عدالتی توازن کے لیے سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔ ہائی کورٹ کے چاروں ججز کی یہ درخواست عوامی اور قانونی حلقوں میں اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ عدلیہ آئینی تحفظ کے لیے کس حد تک فعال کردار ادا کر سکتی ہے۔
اس سماعت کے بعد متوقع فیصلے سے پاکستان میں آئینی عمل، جمہوری استحکام اور عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے مستقبل میں واضح رہنمائی ملنے کی امید ہے، جبکہ یہ فیصلہ آئینی ماہرین اور سیاسی مبصرین کے لیے بھی ایک اہم حوالہ بن جائے گا۔
