امریکی وزارتِ خزانہ کے ذیلی ادارے ‘آفس آف فارن ایسیٹس کنٹرول’ (OFAC) نے آج ایک وسیع نیٹ ورک اور شپنگ بروکروں پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں جو ایران کی تیل کی برآمدات کے ذریعے مسلح افواج کی مالی معاونت میں ملوث تھے۔ امریکی وزیرِ خزانہ اسکوٹ بيسنٹ نے اس اقدام کو ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام اور اس کے دہشت گرد ایجنٹوں کی مالی معاونت کو روکنے کی کوشش قرار دیا، اور کہا کہ ایران کی آمدنی کو محدود کرنا عالمی سلامتی اور جوہری عزائم کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
پابندیوں کے دائرہ کار میں چھ بحری جہاز شامل کیے گئے ہیں اور ان غیر سرکاری آئل ٹینکرز کے نیٹ ورک پر بھی سخت اقدامات کیے گئے ہیں، جن پر ایران عالمی منڈی تک اپنی تیل کی برآمدات پہنچانے کے لیے انحصار کرتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اب تک 170 سے زائد بحری جہازوں پر پابندیاں لگا چکی ہے، جس سے ایرانی حکومت کو ہر فروخت ہونے والے بیرل سے حاصل ہونے والی آمدنی میں نمایاں کمی اور برآمدات کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔
اسی کے ساتھ، OFAC نے ایرانی فضائی کمپنی ماہان ایئر کے خلاف بھی اضافی اقدامات کیے ہیں، جس پر الزام ہے کہ یہ کمپنی ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے ساتھ مل کر پورے مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی حمایت یافتہ گروہوں کو اسلحہ اور ساز و سامان پہنچانے میں ملوث رہی۔ ماہرین کے مطابق یہ پابندیاں ایران کی مالی، لاجسٹک اور فوجی صلاحیتوں کو محدود کرنے کی عالمی کوششوں کا حصہ ہیں اور اس سے مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے اثر و رسوخ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
یہ اقدام عالمی اقتصادی اور سیاسی منظرنامے میں ایران کے جوہری پروگرام پر دباؤ بڑھانے، اس کے دہشت گرد نیٹ ورک کی مالی معاونت روکنے اور مشرق وسطیٰ میں استحکام قائم رکھنے کی کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پابندیوں سے ایران کے تیل کی برآمدات پر براہِ راست اثر پڑا ہے اور عالمی مارکیٹ میں اس کے اقتصادی اثرات نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
