سنگاپور نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر اپنی سخت ترین سفارتی پالیسی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی شدت پسند آبادکار گروپوں سے تعلق رکھنے والے چار اسرائیلی شہریوں پر مالی پابندیاں عائد کرنے اور انہیں ملک میں داخلے سے مستقل روکنے کا اعلان کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے جمعہ کو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ افراد مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف انتہائی سنگین اور تشدد پر مبنی کارروائیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔
جن چار افراد پر پابندیاں لگائی گئی ہیں ان میں میر موردخائی ایٹنگر، الیشا یرید، بین زیون گوپسٹین اور باروچ مارزیل شامل ہیں۔ ان کے خلاف یورپی یونین پہلے ہی سخت اقدامات کر چکی ہے، تاہم سنگاپور کا یہ اقدام جنوبی ایشیا کی سفارتی پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق ان افراد کا طرزِ عمل نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ فلسطین کے دیرینہ مسئلے کے دو ریاستی حل کو کمزور کرنے کی دانستہ کوشش بھی ہے۔ترجمان نے واضح کیا کہبین الاقوامی قانون اور دو ریاستی حل کے حامی کے طور پر سنگاپور کسی بھی ایسے یکطرفہ اقدام کی مخالفت کرتا ہے جو زمینی حقائق کو غیر قانونی طور پر تبدیل کرے۔
سنگاپور کے وزیرِ خارجہ ویوین بالاکرشنن نے پارلیمان میں پہلے ہی اس بات کا اشارہ دے دیا تھا کہ اسرائیلی آبادکار گروپوں کے رہنماؤں پر پابندیاں ناگزیر ہو چکی ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی سیاست دانوں کے اُن بیانات کی بھی شدید مذمت کی تھی جن میں مغربی کنارے یا غزہ کے حصوں کو اسرائیل میں شامل کرنے کی حمایت کی گئی تھی۔ بالاکرشنن نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے ای ون کالونی منصوبے کے تحت ہونے والا غیر قانونی قبضہ “مغربی کنارے کو جغرافیائی طور پر پارہ پارہ” کر دے گا۔
سنگاپور نے نہ صرف غیر قانونی اقدامات کی مذمت کی بلکہ یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ مناسب حالات میں وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کرے گا۔یہ اعلان اس لیے بھی اہم ہے کہ 1965 میں آزادی کے بعد سے سنگاپور کے اسرائیل کے ساتھ فوجی اور سفارتی تعلقات ہمیشہ مضبوط رہے ہیں، لیکن 2024 میں اس شہری ریاست نے اقوامِ متحدہ میں کئی ایسی قراردادوں کے حق میں ووٹ دیا جن میں فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی گئی تھی۔
بین الاقوامی برادری کی اکثریت مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادیوں کو قانونی طور پر غیر جائز تصور کرتی ہے، اور سنگاپور کا تازہ قدم عالمی سطح پر دو ریاستی حل کے حق میں اس کی پوزیشن کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔
