اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت کے ساتھ تعلقات میں جاری کشیدگی پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوطرفہ کشیدگی کے پیش نظر جنگ کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پراکسی وار، جو کہ جدید جنگی حربے کے طور پر استعمال ہوتا ہے، دہائیوں سے جاری ہے اور گزشتہ برسوں میں اس میں شدت آ گئی ہے۔ خواجہ آصف کے مطابق پراکسی وار 1980 کی دہائی میں شروع ہوئی تھی، جس کے دوران لاہور اور راولپنڈی میں متعدد دھماکے ہوئے اور حالات انتہائی نازک رہے۔
وزیر دفاع نے مئی میں پیش آنے والے معرکے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس دوران پاک فضائیہ کے جے ایف-17 تھنڈر طیاروں نے بھارت کے جدید S-400 دفاعی نظام کو تباہ کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مئی کی جنگ کے فوری بعد بھارت کے ساتھ ایک اور جنگ کا امکان موجود تھا، اور آج بھی یہ خطرہ مکمل طور پر ٹلا نہیں ہے۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بھارت کے خلاف پاکستان کی فتح کی سرکاری تصدیق امریکا نے کی، اور امریکی صدر کی بروقت مداخلت نے ممکنہ جنگ کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
وزیر دفاع نے زور دیا کہ پاکستان کی مسلح افواج کی جدید صلاحیتیں اور ہتھیار کسی بھی جارحانہ اقدام کا مؤثر جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاک فضائیہ نے مئی میں بھارت کے رافیل سمیت سات طیارے مار گرائے اور S-400 دفاعی نظام کو ناکارہ بنایا، جس سے پاکستان کی دفاعی طاقت عالمی سطح پر تسلیم ہوئی۔
خواجہ آصف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پراکسی وار صرف ماضی کی کہانی نہیں بلکہ آج بھی ایک حقیقت ہے، اور جدید جنگی ٹیکنالوجی کے ذریعے جاری تنازعات مستقبل کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کی خواہاں ہے، مگر اپنی سرحدوں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکنہ قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے۔
