انسدادِ دہشت گردی عدالت نے تھانہ مغلپورہ میں پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمہ نمبر 1570/23 میں پاکستان تحریک انصاف کی سینئر رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے سماعت کے بعد ڈاکٹر یاسمین کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔
عدالت نے ان کے دیگر تین مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں کی سماعت 25 نومبر تک ملتوی کر دی ہے، جن میں عسکری ٹاور حملہ کیس اور جناح ہاؤس کے قریب چوک میں پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمات شامل ہیں۔
ڈاکٹر یاسمین راشد پر پہلے سے نو مئی کے دیگر چار مقدمات میں سزا ہو چکی ہے، تاہم موجودہ ضمانت انہیں عارضی قانونی آزادی فراہم کرتی ہے اور آئندہ سماعتوں میں قانونی کارروائی کی سمت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اس فیصلے کے بعد سیاسی اور قانونی حلقوں میں ہلچل مچی ہے، جہاں تجزیہ نگار اسے تحریک انصاف کی سینئر قیادت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
تحریک انصاف کے کارکنان اور سیاسی حلقے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں، جبکہ حکومتی حلقوں نے بھی عدالتی کارروائی کے شفاف اور قانونی پہلو کو سراہا ہے۔ اس فیصلے سے ڈاکٹر یاسمین کی قانونی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے اور آئندہ سماعتوں میں ان کے دیگر مقدمات کی کارروائی پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے، جو پاکستان کے سیاسی اور عدالتی ماحول میں اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔
