بھارت اور چین کے درمیان پرانی سرحدی کشیدگی ایک بار پھر اُس وقت نمایاں ہو گئی جب شنگھائی ایئرپورٹ پر اروناچل پردیش سے تعلق رکھنے والی ایک بھارتی خاتون کو روکے جانے کے واقعے نے دونوں ممالک کے درمیان نئی لفظی جنگ کو جنم دے دیا۔ نئی دہلی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اروناچل پردیش بھارت کا لازمی اور ناقابلِ تقسیم حصہ ہے، جب کہ چین اپنی دیرینہ پالیسی دہراتے ہوئے اسے ’’زانگ نان‘‘ یعنی جنوبی تبت قرار دیتا ہے۔ یہ تنازع برسوں سے سفارتی سطح پر جاری ہے، لیکن حالیہ واقعہ نے اسے دوبارہ موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔
برطانیہ میں مقیم بھارتی شہری پریما وانگجوم تھونگڈوک، جو تقریباً چودہ برس سے یوکے میں رہائش پذیر ہیں، لندن سے جاپان جاتے ہوئے شنگھائی میں ٹرانزٹ پر موجود تھیں۔ اُن کے بقول، چینی امیگریشن حکام نے انہیں تقریباً اٹھارہ گھنٹے تک روک کر رکھا، بار بار پوچھ گچھ کی، اور ان کے بھارتی پاسپورٹ کو یہ کہہ کر تسلیم کرنے سے انکار کیا کہ اروناچل پردیش بھارت کا نہیں بلکہ چین کا حصہ ہے۔ خاتون کے مطابق امیگریشن اہلکاروں نے اُن کا مذاق بھی اُڑایا اور انہیں بتایا کہ ان کی ویزا انٹری ناقابلِ قبول ہے۔
یہ معاملہ اُس وقت سنگین ہوا جب پریما نے چین میں بھارتی سفارتی مشنز کو پیغامات بھجوائے اور بھارتی حکام نے فوری طور پر مداخلت کی۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے اہلکاروں نے پورے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے چینی حکومت سے باضابطہ احتجاج کیا۔ نئی دہلی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ چینی حکام کا طرزِ عمل بین الاقوامی فضائی قوانین اور اُن معاہدوں کے خلاف ہے جن کے تحت مسافروں کو 24 گھنٹے تک ویزا فری ٹرانزٹ کی سہولت دی جاتی ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ چین اب تک یہ واضح نہیں کر سکا کہ خاتون کو کیوں روکا گیا اور کن قوانین کے تحت ان سے اس طرح کی سختی برتی گئی۔
چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے پریس بریفنگ میں بھارتی موقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ’’زانگ نان‘‘ چین کی زمین ہے، اور چین نے کبھی بھی اروناچل پردیش کو بھارتی ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ شنگھائی کے ایئرپورٹ پر کسی قسم کی غیرقانونی حراست یا ہراسانی نہیں کی گئی، اور تمام کارروائی ضابطوں کے مطابق تھی۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب بھارت اور چین تعلقات بہتر بنانے کی جانب مائل نظر آ رہے تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی 2020 کی گلوان وادی جھڑپ کے بعد بڑھ گئی تھی، جس میں دونوں طرف جانی نقصان ہوا تھا۔ اگرچہ اس کے بعد سفارتی اور عسکری سطح پر کئی مذاکرات کیے گئے، لیکن اعتماد کی بحالی ابھی تک ادھوری رہی ہے۔ اسی سال بھارتی وزیرِ اعظم کا سات سال بعد چین کا دورہ بھی اسی کوشش کا حصہ تھا، جس میں دونوں ممالک نے رقابت کے بجائے شراکت داری کو ترجیح دینے کی بات کی تھی۔
تقریباً 3,800 کلومیٹر طویل سرحد، جو کئی مقامات پر واضح طور پر طے نہیں کی گئی، دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا بنیادی سبب رہی ہے۔ چین کئی مرتبہ اروناچل پردیش کے مختلف علاقوں کے نام تبدیل کر چکا ہے، جس پر بھارت نے ہر بار سخت اعتراض کیا ہے۔ بھارت کا ہمیشہ سے یہی موقف رہا ہے کہ تاریخی، جغرافیائی اور انتظامی طور پر اروناچل پردیش صدیوں سے بھارت کا حصہ ہے اور اس حقیقت کو کوئی بھی سیاسی یا لسانی تبدیلی تبدیل نہیں کر سکتی۔
حالیہ معاملے نے نہ صرف دونوں ممالک کے بیچ سفارتی فاصلہ دوبارہ بڑھا دیا ہے بلکہ اس نے ہزاروں بھارتی شہریوں، خصوصاً اروناچل پردیش سے تعلق رکھنے والوں، کے سفر سے منسلک خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔ بھارت نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی عزت اور اُن کے قانونی حقوق کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھائے گا، چاہے معاملہ کسی بھی ملک سے متعلق ہو۔
یہ واقعہ اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ بھارت اور چین کے تعلقات بظاہر مہذب سفارتی بیانات کے باوجود ابھی بھی نازک توازن پر قائم ہیں، جہاں ایک چھوٹا سا واقعہ بڑے تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
