عدالتی حکم پر جب لاکرز کی سیل توڑی گئی تو وہاں موجود منظر نے پورے بنگلہ دیش میں سیاسی بھونچال پیدا کر دیا۔ خاموش لوہے کے ان خانوں سے 9.7 کلوگرام سونا برآمد ہواچمکتے ہوئے سونے کے سکے، مہر لگے زیورات، اور قیمتی تحائف جن کی چمک کئی اہم سوالات کو جنم دے گئی۔
تحقیقات میں یہ ہولناک انکشاف سامنے آیا کہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے اپنے دورِ حکومت میں ملنے والے ان قیمتی تحائف کو قانون کے مطابق توشہ خانہ میں جمع نہیں کروایا، بلکہ انہیں خفیہ طور پر محفوظ رکھا گیا۔ اس دریافت نے نہ صرف سیاسی ماحول میں زبردست ہلچل مچا دی بلکہ قومی محصولات بورڈ نے بھی مبینہ ٹیکس چوری کی جامع تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے—یہ جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا حسینہ نے اس بھاری مقدار میں موجود سونے کو اپنے ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کیا تھا یا نہیں۔
حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش پہلے ہی سیاسی انتشار کا شکار تھا، مگر اس تازہ اسکینڈل نے ملک کے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بھڑکا دیا ہے۔ فروری 2026 کے انتخابات سے قبل ملک میں سیاسی سرگرمیاں تشدد کا رخ اختیار کر چکی ہیں، جلسوں میں تصادم، شہروں میں احتجاج اور گلیوں میں بے یقینی کا راج ہے۔
اسی افراتفری کے دوران انٹرنیشنل کرائم ٹربیونل نے رواں ماہ حسینہ واجد کو طلبہ کی قیادت میں بغاوت کے خلاف خونریز کریک ڈاؤن کے الزام میں سزائے موت سنائی ایک ایسا فیصلہ جس نے ملکی سیاست کو مزید تقسیم کر دیا۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس کارروائی کے نتیجے میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حسینہ اقتدار پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کے لیے آخری حد تک چلی گئیں، جبکہ ان کے حامی اسے سیاسی انتقام قرار دے رہے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ حالات نے اتنی شدت اختیار کر لی کہ بڑھتے احتجاج اور عوامی غصے کے سامنے حسینہ واجد زیادہ دیر ٹک نہ سکیں۔ چنانچہ وہ اگست 2024 میں بنگلہ دیش چھوڑ کر بھارت فرار ہو گئیں اور اب دہلی میں خاموش جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔
بنگلہ دیش اس وقت تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑا ہےایک طرف اقتدار کی جنگ، دوسری طرف انصاف کی پیاس، اور اوپر سے اب سونے سے بھرے لاکرز کا انکشاف جس نے سیاسی بحران کو مزید دھماکہ خیز بنا دیا ہے۔
