ریاض:سعودی وزیرماحولیات، پانی وزراعت اورانٹرنیشنل ڈیٹ کونسل کے چیئرمین انجینئر عبدالرحمن الفضلی نے کہا ہے کہ کھجور کی عالمی تجارت میں مملکت بدستور پہلے نمبر پر ہے۔ گزشتہ برس 1.7 ارب ریال سے زائد مالیت کی ایکسپورٹ ریکارڈ کی گئی، جو سعودی کھجور انڈسٹری کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی برتری کا واضح ثبوت ہے۔
ریاض میں انٹرنیشنل ڈیٹ کونسل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے پانچویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کھجوروں کی پیداوار بڑھانے کے لیے متعارف پالیسیوں اور ترقیاتی پروگراموں نے غیر معمولی نتائج دیے ہیں، جس کے بعد مملکت کی سالانہ قومی پیداوار 1.9 ملین ٹن کی نئی بلندی تک پہنچ گئی ہے۔
وزیر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اس وقت اپنی اعلیٰ معیار کی کھجوریں دنیا کے 111 ممالک کو برآمد کر رہا ہے، جو کھجور کے شعبے کی مضبوط سپلائی چین اور مسلسل بڑھتی ہوئی عالمی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس صنعت کو مستحکم کرنے کے لیے جینیاتی وسائل میں بہتری، جدید ٹیکنالوجی کی لوکلائزیشن، اور مارکیٹنگ کے نئے طریقوں پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔
سعودی عرب میں کھجور کی 300 سے زائد اقسام پیدا ہوتی ہیں جن میں سکری، الخلاص، عجوہ، الصقعی اور الصفری سب سے زیادہ پسند کی جاتی ہیں۔ ملک بھر میں کھجور کے درختوں کی مجموعی تعداد 3 کروڑ 40 لاکھ سے زائد ہے، جو سعودی عرب کو کھجور پیدا کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی طاقت بنا دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کھجور کے شعبے میں ٹیکنالوجی، معیار اور مارکیٹنگ میں مزید بہتری نہ صرف عالمی تجارت کو وسیع کرے گی بلکہ مقامی کسانوں اور صنعت کے ہزاروں افراد کے لیے معاشی ترقی کے نئے دروازے بھی کھولے گی۔
