ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ رواں سال پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشنز کیے گئے جن کے دوران 1,873 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا، جن میں 136 افغانی بھی شامل ہیں۔
انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی مجموعی تعداد 67 ہزار سے زائد رہی جن میں سب سے زیادہ کارروائیاں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کی گئیں۔ صرف 4 سے 25 نومبر 2025 کے دوران سیکیورٹی فورسز نے 4,910 آپریشنز انجام دیے جن میں 206 دہشتگرد مارے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغانستان سے دہشتگردوں کی دراندازی میں طالبان کی مکمل سہولت کاری کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ پاک افغان سرحد دنیا کی مشکل ترین سرحدوں میں شامل ہے جہاں 1,229 کلومیٹر طویل بارڈر پر 20 کراسنگ پوائنٹس موجود ہیں اور کئی مقامات پر فوجی چوکیاں ایک دوسرے سے 20 سے 25 کلومیٹر دور ہیں، جس کے باعث نگرانی ایک بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان میں القاعدہ، داعش، ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے ٹھکانے موجود ہیں جنہیں اسلحہ اور فنڈنگ فراہم کی جاتی ہے اور پاکستان نے اس حوالے سے افغان حکام کو ٹھوس شواہد بھی مہیا کیے ہیں مگر طالبان اب تک دہشتگردی کی سہولت کاری روکنے میں ناکام رہے ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ 2024 اور 2025 کے دوران 13 لاکھ 38 ہزار سے زائد افغان مہاجرین کو باعزت طور پر وطن واپس بھیجا گیا جبکہ صرف نومبر 2025 میں 2 لاکھ 39 ہزار سے زیادہ افراد واپس گئے۔ بھارت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور میں بھارت کو بدترین شکست ہوئی اور متعدد جہازوں سمیت اہم تنصیبات تباہ ہونے کے باوجود بھارتی قیادت جھوٹے بیانات کے ذریعے عوامی غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پاکستان مخالف سوشل میڈیا بیانیہ زیادہ تر بیرونِ ملک سے آپریٹ ہونے والے اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے، جبکہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان ہی واحد اور حتمی حل ہے، جس پر بلوچستان میں مؤثر عملدرآمد ہو رہا ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں اس کی کمی نمایاں ہے۔
