وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کم عمر طلبہ کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار کرنے اور بچوں پر ہتھکڑیاں لگانے کے واقعات پر شدید ناراضی ظاہر کرتے ہوئے فوری طور پر کارروائی روکنے کا حکم دے دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ معصوم بچوں کا اصل قصور نہیں، بلکہ مسئلہ والدین کی عدم توجہی اور معاشرتی رویوں میں ہے، جنہیں بدلنا ناگزیر ہے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ 16 سالہ بچوں کو اسمارٹ کارڈ اور موٹرسائیکل ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے جائیں گے، تاکہ وہ قانون کے دائرے میں رہ کر سفر کر سکیں۔ صوبے بھر میں ٹریفک پولیس کو ہدایت دی گئی کہ عوام خصوصاً طلبہ کے لیے ہفتہ آگاہی منائی جائے، تاکہ روڈ سیفٹی کے بارے میں شعور بڑھایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہیلمٹ نہ پہننے پر پہلی مرتبہ صرف وارننگ چالان جاری کیا جائے گا اور ٹریفک قوانین کے بہتر نفاذ کے لیے پہلی بار ڈرون کیمرے اور باڈی کیم کا استعمال بھی شروع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹریفک قوانین عوام کی جان بچانے کے لیے بنائے گئے ہیں، اور ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
مریم نواز نے والدین پر بھی زور دیا کہ وہ بچوں کو ہیلمٹ کی اہمیت سمجھائیں اور روڈ سیفٹی کی عادات پیدا کریں۔ انہوں نے ٹریفک پولیس کو بھی ہدایت کی کہ عوام کی عزت نفس کا ہر صورت خیال رکھا جائے اور بدتمیزی و بداخلاقی کسی صورت برداشت نہ کی جائے۔
اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ اب تک ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر 2445 پولیس گاڑیاں بھی قانون کی زد میں آ چکی ہیں، جس پر وزیراعلیٰ نے قانون کی یکساں عملداری پر اطمینان کا اظہار کیا۔
