ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے تہران کی میزائل رینج محدود کرنے کے مطالبے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے “ناممکن اور ناقابلِ قبول” قرار دے دیا ہے۔ تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی دفاعی صلاحیت اس کی قومی سلامتی کا بنیادی ستون ہے، اور اس حوالے سے کسی قسم کی گفتگو یا رعایت ممکن نہیں۔
قالیباف نے کہا کہ ایران نے جنگ کے بعد اپنی طاقت اور دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے، اور یہی پیش رفت مغربی ممالک، خصوصاً امریکہ کو ناگوار گزر رہی ہے۔ انہوں نے کہا:
“ہماری میزائل رینج کم کرنے کا مطالبہ بالکل غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ ایسی کوئی شرط قبول نہیں کی جا سکتی۔”
ایران اس وقت 2,000 کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائلوں کی خود ساختہ حد پر کاربند ہے، جسے حکام ملکی دفاع کے لیے کافی سمجھتے ہیں، کیونکہ یہ رینج اسرائیل تک پہنچنے کے لیے موزوں ہے۔ قالیباف کے مطابق یہ صلاحیت ایران کے لیے دفاعی توازن برقرار رکھنے کا اہم ذریعہ ہے۔
امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے قالیباف نے الزام لگایا کہ واشنگٹن ’’سفارت کاری کے بجائے دباؤ‘‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، اور حقیقی مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنے مطالبات مسلط کرنا چاہتا ہے اور ایران سے مکمل اطاعت کا خواہاں ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
ان کے یہ بیانات اُس وقت سامنے آئے ہیں جب چند روز قبل رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے ان رپورٹس کی سختی سے تردید کی تھی کہ ایران نے کسی ثالث کے ذریعے امریکہ سے رابطہ کیا ہے۔ خامنہ ای نے کہا تھا کہ ایران کو جنگ پسند امریکی حکومت کے ساتھ کسی رابطے کی جستجو نہیں کرنی چاہیے۔
قالیباف نے امید ظاہر کی کہ خطے میں نئی جنگ سے بچا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ آج ایران کی دفاعی اور جارحانہ صلاحیتیں پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔ انہوں نے کہااگر امریکہ یا اسرائیل نے کوئی جارحیت کی تو اس کا جواب پہلے سے زیادہ مضبوط، زیادہ درست اور زیادہ مؤثر طریقے سے دیا جائے گا۔
