غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر رفح میں حماس مخالف مسلح گروہ کے سربراہ یاسر ابو شباب پر ایک حملے میں ہلاکت نے خطے کی سیاسی و عسکری بساط کو نئی پیچیدگیوں سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ حملہ آور کے حوالے سے سامنے آنے والی متضاد اطلاعات نے معاملے کو مزید مبہم بنا دیا ہے۔
اسرائیلی فوجی ذرائع کے مطابق ابو شباب اپنے ہی ایک ساتھی کے ساتھ جھڑپ میں زخمی ہوئے تھے۔ انہیں جنوبی اسرائیل کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ اسرائیلی آرمی ریڈیو نے اس واقعے کو ’’داخلی تنازع‘‘ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
تاہم فلسطینی ذرائع اس بیان کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق حماس کے مسلح عناصر نے گھات لگا کر انہیں نشانہ بنایا، جب کہ کچھ رپورٹس میں القسام بریگیڈز کے ساتھ جھڑپ میں ان کی ہلاکت کا ذکر ملتا ہے۔ اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں نے بھی واضح کیا کہ اس واقعے کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں اور کوئی حتمی نتیجہ سامنے آنا باقی ہے۔
یاسر ابو شباب کون تھا؟
یاسر ابو شباب کا تعلق غزہ کے معروف بدو قبیلے ’’الترابین‘‘ سے تھا اور وہ گزشتہ برسوں میں حماس کے شدید مخالفین میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے ’’القوات الشعبیۃ‘‘ کے نام سے ایک مسلح گروہ کی بنیاد رکھی جو رفح کے مشرقی علاقے میں سرگرم تھا اور محدود پیمانے پر اسرائیل کے ساتھ ہم آہنگی سے کام کرتا تھا۔
سات اکتوبر 2023 کی جنگ کے آغاز پر انہیں جیل سے رہا کیا گیا، جس کے بعد مختصر وقت میں انہوں نے درجنوں جنگجوؤں کو بھرتی کیا جن میں فلسطینی سکیورٹی اداروں کے سابق اہلکار اور مقامی نوجوان شامل تھے۔
اپنی سرگرمیوں کو وہ ’’عوامی سلامتی‘‘ کا نام دیتے تھے، تاہم ان کے گروہ پر گرفتاریوں، چیک پوائنٹس قائم کرنے اور بعض مواقع پر مقامی شہریوں پر تشدد کے الزامات بھی لگتے رہے۔
ان کے قریب ایک ذریعے نے بتایا کہ گروہ نے جنگجوؤں کو بہترین تنخواہیں پیش کر کے اپنی طرف متوجہ کیا۔
اسرائیل کا منصوبہ جو دم توڑ گیا
حماس طویل عرصے سے ابو شباب پر اسرائیلی تعاون، معلومات کی فراہمی اور امداد کی خردبرد کے الزامات لگاتی رہی، جنہیں وہ مسترد کرتے تھے۔
البتہ اپنے سابقہ بیان میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ ان کا گروہ حماس کے ’’ظلم اور کرپشن‘‘ کے خلاف تشکیل دیا گیا، خصوصاً اس وقت جب انہوں نے مبینہ طور پر حماس کے ہاتھوں انسانی امداد کی چوری اور اسے مارکیٹ میں فروخت ہوتے دیکھا۔
اسرائیلی رپورٹس کے مطابق تل ابیب ان کی ملیشیا کو حماس کے اثر کو کمزور کرنے کیلئے ایک متبادل قوت سمجھتا تھا۔ بعض انٹیلیجنس رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیل انہیں اسلحہ، گاڑیاں اور مالی سپورٹ فراہم کرتا رہا، تاکہ وہ مزید مقامی نوجوانوں کو حماس مخالف صفوں میں شامل کر سکیں۔
ان کی اچانک ہلاکت کو اسرائیل کیلئے ’’منفی پیش رفت‘‘ اور ’’حماس مخالف حکمت عملی کو شدید جھٹکا‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ابو شباب غزہ میں اسرائیل نواز عنصر کے طور پر ابھرتی ہوئی قوت سمجھے جاتے تھے۔
