نئی دہلی: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن دو روزہ سرکاری دورے کے لیے بھارت پہنچ گئے ہیں، جہاں انہیں نئی دہلی ایئرپورٹ پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے شاندار استقبال کیا۔ یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور جغرافیائی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، پیوٹن اور مودی کی ملاقات میں جغرافیائی سیاست، باہمی تجارت میں توسیع، دفاعی تعاون، ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبے میں شراکت داری کے امکانات پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔ اس کے علاوہ، روس-بھارت تعلقات کے سالانہ اجلاس میں بھی پیوٹن شرکت کریں گے، جہاں عالمی سطح پر دونوں ممالک کی موجودہ اور مستقبل کی پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
دورہ بھارت کے دوران پیوٹن نے ایک بیان میں کہا کہ ماسکو یوکرین کے علاقے دونباس (Donbas) پر فوجی یا دیگر ذرائع سے قبضہ ضرور کرے گا۔ یہ دھمکی آمیز بیان روس-یوکرین کشیدگی میں شدت اور بین الاقوامی سیاست میں توازن کی صورتحال پر اثر ڈال سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اعلان نہ صرف یورپ بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات پر بھی دباؤ ڈال سکتا ہے، اور روس کے اس اقدام سے عالمی سیاسی محاذ پر نئی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
دفاعی تعلقات میں توسیع: دونوں ممالک ممکنہ دفاعی معاہدوں پر غور کریں گے، جس میں فوجی تربیت، ہتھیاروں کی خرید و فروخت اور مشترکہ دفاعی منصوبے شامل ہو سکتے ہیں۔تجارتی شراکت داری: بھارت اور روس تجارت کے نئے شعبوں میں توسیع کے امکانات تلاش کر رہے ہیں، جس میں توانائی، توانائی کی ترسیل اور ٹیکنالوجی شامل ہے۔
جغرافیائی سیاست: عالمی سطح پر دونوں ممالک کے تعلقات، خاص طور پر مشرق وسطیٰ، یورپ اور ایشیا میں جاری تنازعات پر بات کی جائے گی۔روس-بھارت سالانہ اجلاس: اجلاس میں دونوں ممالک کی مشترکہ حکمت عملی، اقتصادی منصوبے اور عالمی سیاست میں تعاون کے مزید مواقع پر غور کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیوٹن کا یہ دورہ نہ صرف روس-بھارت تعلقات کو مستحکم کرنے کا موقع ہے بلکہ عالمی سطح پر طاقت کے توازن، دفاعی و اقتصادی شراکت داری، اور جغرافیائی سیاست میں بھی اہم اثر ڈال سکتا ہے۔روس کی جانب سے دونباس پر قبضے کی دھمکی نے یورپی یونین، امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان روس-یوکرین کشیدگی کو مزید پیچیدہ اور طویل عرصے تک جاری رکھنے کا سبب بن سکتا ہے۔
