وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کے قیام اور اس کی حفاظت کے لیے دی جانے والی قربانیاں اُن افراد کو بھی سنائی جانی چاہئیں جو یہ نعرہ لگاتے پھرتے ہیں کہ "خان نہیں تو پاکستان نہیں”۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ملک کی بنیاد کسی سیاسی شخصیت کے سہارے نہیں بلکہ لاکھوں شہداء کے خون، ہجرت کی اذیت اور قوم کی اجتماعی جدوجہد پر رکھی گئی ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان کا سفر آگ اور خون کے دریا سے گزر کر مکمل ہوا۔ لاکھوں افراد شہید ہوئے، بے شمار خواتین کی عصمت دری کی گئی اور ہزاروں لوگ دشمن کے ہاتھوں اغوا ہوئے۔ خواجہ آصف کے مطابق اگر کوئی اس تاریخ کی اصل قیمت جاننا چاہتا ہے تو سیالکوٹ آئے اور اُن مہاجرین کی داستان سنے جو جموں و کشمیر سے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر یہاں پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ صحافی حامد میر کے نانا نے جموں و کشمیر سے ہجرت کے دوران جو قیمت ادا کی، وہ بھی ہماری اجتماعی تاریخ کا حصہ ہے، اور اس کا حال حامد میر خود بہتر طور پر بیان کر سکتے ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ سیالکوٹ کی گلیوں، محلوں اور دریائے چناب کے کنارے بسنے والے مہاجرین آج بھی اس جدوجہد کی گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے کس طرح نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ہجرت کی اور اپنے خون سے اس سرزمین پر پہلا سجدہ کیا۔
خواجہ آصف نے زور دیتے ہوئے کہا کہ "پاکستان نہیں تو ہم نہیں”—یہ وہ نعرہ ہے جو ہمارے شہیدوں، غازیوں اور دہشت گردی و بھارت کے خلاف لڑنے والے بہادر سپاہیوں کے دلوں کی آواز بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کی قربانیوں کو سیاسی نعروں کے پیچھے نہیں چھپایا جا سکتا۔
اپنے بیان کا اختتام کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا: "پاک فوج زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔”
واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک اہم پریس کانفرنس میں سابق وزیراعظم عمران خان پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں "ذہنی مریض” قرار دیا تھا، جس پر پی ٹی آئی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی ترجمان کے الفاظ افسوسناک ہیں اور ملک کو آگے بڑھانے کے لیے باہمی احترام اور سیاسی گنجائش دینا ضروری ہے۔
