روس کی مسلم اکثریتی ریاست چیچنیا ایک بار پھر یوکرین کے حملوں کی زد میں آگئی ہے۔ دارالحکومت گروزنی میں یوکرین کے ڈرون حملے کے بعد چیچن سربراہ رمضان قادریوف شدید برہم ہوگئے ہیں اور انہوں نے سخت جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق جمعے کے روز ایک یوکرینی ڈرون نے شہر کی ایک بلند عمارت کو نشانہ بنایا جس سے عمارت کو جزوی نقصان پہنچا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
رمضان قادریوف نے ٹیلیگرام پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ شہری عمارتوں کو نشانہ بنانا غیر اخلاقی اوربزدلانہ عمل ہے، اور اس کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے یوکرین کی مایوسی کا نتیجہ ہیں، لیکن چیچن فورسز ان کا مناسب جواب دینا جانتی ہیں۔
بعد ازاں ایک اور بیان میں قادریوف نے یوکرین کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ "کل سے ایک ہفتے تک یوکرینی فاشسٹ ہمارے جواب کو محسوس کریں گے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ روس اور چیچن فورسز یوکرین کی طرح عام شہریوں یا پرامن اہداف کو نشانہ نہیں بنائیں گی۔
یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی یوکرین چیچنیا میں متعدد ڈرون حملے کر چکا ہے، جن میں ایک پولیس بیرک اور فوجی تربیتی اکیڈمی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان حملوں نے ثابت کیا ہے کہ یوکرین روس کے اندرونی علاقوں تک حملے کی صلاحیت بڑھا چکا ہے۔
خیال رہے کہ رمضان قادریوف روس کے اتحادی اور یوکرین پر حملے کے بھرپور حامی رہے ہیں۔ وہ نہ صرف سیاسی سطح پر ماسکو کی جنگی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں بلکہ اپنی چیچن فورسز کو بھی یوکرین کے محاذ پر تعینات کر چکے ہیں۔
