وزارتِ قانون و انصاف نے علامہ محمد راغب حسین نعیمی کی بطور چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) تقرری کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ 6 دسمبر کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن، جس کی کاپی ڈان کے پاس موجود ہے، کے مطابق علامہ نعیمی کو بیک وقت کونسل کے رکن اور چیئرمین دونوں عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے۔ اس تقرری کی منظوری صدرِ مملکت نے بھی دے دی ہے۔
سی آئی آئی پاکستان کا وہ اہم آئینی ادارہ ہے جو پارلیمنٹ کو مشورہ دیتا ہے کہ ملکی قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق کیسے ہم آہنگ کیا جائے۔ علامہ راغب نعیمی اس ادارے کے لیے کوئی نیا نام نہیں—وہ مئی 2024 سے قائم مقام چیئرمین کے طور پر ذمہ داریاں نبھا رہے تھے اور اب مستقل طور پر کونسل کی سربراہی سنبھال رہے ہیں۔
علامہ نعیمی مذہبی و سماجی سطح پر بھی نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ جامعہ نعیمیہ کے وائس چانسلر اور متحدہ علماء بورڈ پنجاب کے چیئرمین ہیں۔ اپنے علمی پس منظر اور مذہبی خدمات کی بنا پر وہ متعدد اہم فورمز پر فعال کردار ادا کرتے آئے ہیں۔
سال 2024 میں وہ اس وقت سرخیوں میں آئے تھے جب انہوں نے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) کے استعمال سے متعلق متنازع بیان دیا تھا۔ علامہ نعیمی نے کہا تھا کہ بلاک شدہ ویب سائٹس، غیر اخلاقی یا غیر قانونی مواد تک رسائی، یا قانون سے بچنے کے لیے وی پی این کا استعمال شریعت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق اسلامی قوانین ریاست کو ایسے اقدامات سے روکنے کا اختیار دیتے ہیں جو معاشرتی برائی کے پھیلاؤ کا ذریعہ بن رہے ہوں۔
علامہ نعیمی کی مستقل تقرری کو ملک میں مذہبی قوانین کی تعبیر و تشریح کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ وہ سی آئی آئی کے کردار کو فعال بنانے میں مزید نمایاں کردار ادا کریں گے۔
