اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سے متعلق غیر یقینی صورتحال ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، کیونکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) نے باضابطہ طور پر بیرسٹر گوہر علی خان کو چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشنز کا معاملہ تاحال زیر التواء ہے جبکہ اس پر لاہور ہائیکورٹ کا اسٹے آرڈر بھی موجود ہے، جس کے باعث کسی بھی فرد کو پارٹی چیئرمین کے طور پر قانونی حیثیت دینا اس وقت ممکن نہیں۔
خط کے مطابق بیرسٹر گوہر علی خان کو چیئرمین کے طور پر نہ کوئی آئینی اختیار حاصل ہے اور نہ ہی الیکشن کمیشن انہیں اس عہدے پر تسلیم کرتا ہے۔ کمیشن نے موقف اپنایا ہے کہ جب تک انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق قانونی معاملات نمٹ نہیں جاتے، اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق الیکشن کمیشن کا یہ مؤقف پی ٹی آئی کے اندرونی بحران میں مزید شدت پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ پارٹی پہلے ہی قیادت، تنظیمی ڈھانچے اور قانونی حیثیت کے متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خط کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات اور مقدمات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بیرسٹر گوہر علی خان نے خود بھی الیکشن کمیشن کے خط کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ کمیشن نے انہیں پہلی بار باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ انہیں چیئرمین پی ٹی آئی کے طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال پی ٹی آئی کے لیے آنے والے دنوں میں سیاسی و قانونی طور پر مزید مشکلات کھڑی کر سکتی ہے۔
