سابق فوجی افسر اور معروف یوٹیوبر عادل راجہ کو برطانیہ کی عدالت سے ایک اور بڑا جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے عادل راجہ کو حکم دیا ہے کہ وہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر سے عوامی سطح پر معافی مانگیں اور یہ معافی 28 دن تک ان کے ایکس، فیس بک، یوٹیوب اور ویب سائٹ کے پیجز پر موجود رہے۔
عدالت کے مطابق، عادل راجہ کو ہرجانہ اور عدالتی اخراجات کی مد میں تین لاکھ 10 ہزار پاؤنڈ ادا کرنے ہوں گے۔ اس فیصلے کے مطابق، 22 دسمبر تک 50 ہزار پاؤنڈ ہرجانہ اور 2 لاکھ 60 ہزار پاؤنڈ عدالتی اخراجات کی ادائیگی کرنا لازمی ہوگی، جبکہ اضافی عدالتی اخراجات کا تخمینہ بعد میں لگایا جائے گا اور وہ بھی عادل راجہ کو ادا کرنا ہوگا۔
رواں برس اکتوبر میں عادل راجہ کے خلاف ہونے والا ہتک عزت کا مقدمہ عدالت نے بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔ عدالت نے عادل راجہ کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انہیں ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے عادل راجہ کو آئندہ ہتک آمیز بیانات نہ دینے کا پابندی بھی عائد کر دی ہے، جبکہ عادل راجہ کے وکیل نے عدالت کے فیصلے کے خلاف کورٹ آف اپیل میں جانے کا عندیہ دیا ہے۔ اس موقع پر بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر خود عدالت میں موجود تھے اور عادل راجہ کے وکلاء بھی پیش ہوئے۔
یہ معاملہ برطانیہ میں یوٹیوبرز اور عوامی شخصیات کے لیے قانونی حدود کی یاد دہانی کے طور پر بھی اہمیت رکھتا ہے، جس میں عدلیہ نے واضح طور پر ہتک عزت کے قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا ہے۔
