متحدہ عرب امارات نے پاسپورٹ انڈیکس 2025 میں ایک بار پھر دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ ہونے کا اعزاز اپنے نام کر لیا ہے، جو مسلسل ساتواں سال ہے کہ امارات عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر برقرار ہے۔ رینکنگ جاری کرنے والے بین الاقوامی ادارے Arton Capital کے مطابق دنیا بھر میں سخت امیگریشن پالیسیوں اور جغرافیائی تبدیلیوں کے باوجود یو اے ای نے اس سال نہ صرف اپنی پوزیشن برقرار رکھی بلکہ کئی بڑے ممالک کی نسبت مزید بہتری کے ساتھ اپنی برتری مضبوط کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سفری سہولتوں میں اضافہ، عالمی سفارتکاری میں فعال کردار اور سرمایہ کار دوست پالیسیاں وہ بنیادی عوامل ہیں جنہوں نے امارات کو ایک بار پھر عالمی فہرست میں سرفہرست رکھا۔ اماراتی شہری دنیا کے سب سے زیادہ ممالک میں آسان رسائی حاصل کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں، جو اس پاسپورٹ کی قوت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
رپورٹ میں اس سال ایشیائی ممالک کے شاندار ابھار کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ سنگاپور نے حیران کن کارکردگی دکھاتے ہوئے 30 ویں نمبر سے سیدھا دوسری پوزیشن حاصل کر لی، جب کہ اس کا اسکور بڑھ کر 175 ہو گیا۔ ملائیشیا نے بھی بڑی جست لگاتے ہوئے 41 ویں سے 17 ویں نمبر تک ترقی پائی اور اسے 174 پوائنٹس ملے۔ جاپان اور جنوبی کوریا معمولی کمی کے باوجود اب بھی دنیا کے مضبوط پاسپورٹس میں شمار ہوتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایشیا سفارتی اور اقتصادی میدان میں اپنی موجودگی مزید مضبوط کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایشیائی ممالک کی معاشی ترقی، عالمی سفارتی تعاون اور جدید ایر ٹریول سسٹمز نے انہیں عالمی درجہ بندی میں نمایاں مقام دلایا ہے۔
دوسری جانب ٹاپ 20 میں یورپی ممالک کی اکثریت موجود رہنے کے باوجود کئی ملکوں کے اسکور میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی وجہ سخت ویزہ پالیسیوں اور نئے بارڈر کنٹرول قوانین کو قرار دیا جا رہا ہے۔ یورپی یونین کے ممالک جیسے جرمنی، فرانس، اسپین، اٹلی اور بیلجیم اب بھی فہرست میں موجود ہیں لیکن گزشتہ برس کے مقابلے میں ان کا اسکور کم ہوا ہے۔ اس سال سب سے زیادہ نقصان انگلش بولنے والے بڑے ممالک کو پہنچا۔ برطانیہ 32 سے گر کر 39 ویں نمبر پر آ گیا، جب کہ کینیڈا 40 اور امریکا 41 ویں مقام تک نیچے چلے گئے۔ کئی ممالک کی جانب سے ویزہ فری یا آن ارائیول سہولت ختم کیے جانے کے بعد ان ممالک کے شہری متبادل شہریت پروگراموں، گولڈن ویزہ اور ریزیڈنسی اسکیموں میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔
Arton Capital کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 دنیا بھر میں الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن (ETA) کے تیزی سے پھیلنے کا سال ثابت ہوا۔ اسرائیل، برطانیہ، ترکمانستان، مالدیپ اور سوئٹزرلینڈ نے باقاعدہ ETA نظام متعارف کرایا جس کے باعث سفر مزید منظم مگر سخت اسکریننگ کے تحت آ گیا۔ کینیڈا نے ایک اہم پالیسی بدلاؤ کے تحت قطری شہریوں کے لیے ویزہ کی لازمی شرط ختم کرتے ہوئے انہیں براہِ راست ETA کی سہولت دے دی، جس کے بعد قطر وہ دوسرا خلیجی ملک بن گیا جسے یہ امتیازی سہولت حاصل ہوئی۔ رپورٹ میں مزید پیش گوئی کی گئی ہے کہ سال 2026 میں 25 سے زائد ممالک ETA نظام شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جب کہ یورپی یونین کا بڑا منصوبہ ETIAS بھی اپنے نفاذ کے قریب ہے، جو دنیا کا سب سے بڑا ڈیجیٹل سفری اجازت نامہ نظام بننے جا رہا ہے۔
