اتر پردیش کے ضلع بارابنکی میں ایک دلخراش واقعے میں ایک خاتون، منیشرا راوت، جعلی ڈاکٹر کے غیر ذمہ دارانہ اور نشے میں کیے گئے آپریشن کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئیں۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون شدید پیٹ درد کی شکایت کے بعد اپنے شوہر کے ہمراہ مقامی غیر رجسٹرڈ کلینک گئی تھیں، جہاں کلینک کے مالک گیان پرکاش مشرا اور وِویک مشرا نے بتایا کہ درد کی وجہ گردے کی پتھری ہے اور اسے 25 ہزار روپے میں سرجری کی ضرورت ہے، جو بعد میں 20 ہزار پر طے پائی۔
اگلے روز گیان پرکاش نے یوٹیوب ویڈیو دیکھ کر نشے کی حالت میں آپریشن کا آغاز کیا، مگر پتھری نکالنے کی بجائے مریضہ کے پیٹ، آنتوں اور غذائی نالی کی کئی اہم رگیں کاٹ دیں۔ آپریشن کے دوران منیشرا کی حالت تیزی سے خراب ہو گئی اور اگلے دن وہ جان کی بازی ہار گئیں۔
پولیس کے مطابق کلینک مکمل طور پر غیر مجاز تھا اور دونوں ملزمان فرار ہو گئے ہیں۔ شوہر کی شکایت پر پولیس نے لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی اور دونوں ملزمان کے خلاف غیر ارادی قتل، ایس سی/ایس ٹی ایکٹ اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس نے مزید کہا کہ فرار ملزمان کو جلد گرفتار کر کے سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یہ واقعہ صحت کے شعبے میں غیر قانونی اور غیر تربیت یافتہ افراد کی سرگرمیوں کی سنگین خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔ مقامی شہریوں کے لیے یہ انتباہ ہے کہ وہ تصدیق شدہ اور رجسٹرڈ کلینکس اور ڈاکٹروں سے ہی علاج کرائیں تاکہ ایسے جان لیوا واقعات سے بچا جا سکے۔
