وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایک بڑے انکشاف میں دعویٰ کیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعیناتی رکوانے کے لیے نہ صرف شدید دباؤ ڈالا بلکہ دھمکیاں دینے تک کی حد تک میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ملکی تاریخ میں کبھی بھی آرمی چیف کی تقرری کے آئینی و حکومتی اختیار کو اس قدر کھلے عام چیلنج نہیں کیا گیا تھا۔
ان کے مطابق جنرل باجوہ پہلے جنرل فیض حمید کو آرمی چیف بنوانے کے لیے متحرک تھے، اور جب یہ ممکن نہ ہوا تو انہوں نے دیگر نام بھی پیش کیے، تاکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی راہ روکی جاسکے۔
وزیرِ دفاع نے مزید الزام عائد کیا کہ 9 مئی کے واقعات بھی جنرل فیض حمید اور پی ٹی آئی قیادت کی مشترکہ منصوبہ بندی تھی، جس کا اصل مقصد عاصم منیر کی تعیناتی کو متنازع بنا کر فیصلہ بدلوانا تھا۔
خواجہ آصف کے مطابق بانی پی ٹی آئی 9 مئی جیسے منظم حملے تنہا نہیں کرسکتے تھے، اور شواہد اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ فیض حمید ریٹائرمنٹ کے باوجود اہم حلقوں میں اثرورسوخ برقرار رکھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ فیض حمید کے خلاف مزید مقدمات بننے کی گنجائش موجود ہے، جبکہ 9 مئی کے پس منظر میں موجود محرکات کو سامنے لانا قومی ضروریات میں شامل ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہ تمام سرگرمیاں ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرنے اور فوجی قیادت کی آئینی تقرریوں کو متنازع بنانے کی منظم کوششوں کا حصہ تھیں، جنہوں نے ملک کی سیاست کو شدید عدم استحکام سے دوچار کیا۔
