روس نے یوکرین کی اہم بندرگاہوں پر ایک اور شدید حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہو گیا جبکہ بندرگاہ پر موجود ترکیہ کا جھنڈا بردار تجارتی جہاز بھی نقصان کا شکار ہوا ہے۔ یوکرینی حکام نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس منظم انداز میں بندرگاہی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے جس سے نہ صرف مقامی سویلین آبادی بلکہ بین الاقوامی تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
یوکرین کے نائب وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ روسی حملوں کا اصل مقصد یوکرین کی سویلین، لاجسٹک نظام اور تجارتی جہاز رانی کو نقصان پہنچانا ہے۔ ان کے مطابق روس جان بوجھ کر ایسے مقامات پر حملے کر رہا ہے جو خوراک کی ترسیل، برآمدات اور عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں، جس سے بحیرہ اسود میں جہاز رانی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
یوکرینی حکام کے مطابق روس مسلسل اور منظم حکمتِ عملی کے تحت بندرگاہوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور جنگی ضابطوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ حملے کے بعد بندرگاہی سرگرمیاں متاثر ہوئیں جبکہ سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین اس طرح کے حملوں کے باوجود اپنی خودمختاری، عوام کے تحفظ اور تجارتی راستوں کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے، جبکہ عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ روسی کارروائیوں کا نوٹس لے کر مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات کو روکا جا سکے۔
