عراق کے سابق صدر بیرھم صالح کو اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کا نیا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے، جسے عالمی سطح پر ایک اہم اور غیر معمولی تقرری قرار دیا جا رہا ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق موجودہ سربراہ فلیپو گرانڈی رواں ماہ اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں، جس کے بعد بیرھم صالح یہ ذمہ داری سنبھالیں گے۔
بیرھم صالح ایک تجربہ کار سیاست دان اور سفارت کار سمجھے جاتے ہیں، جو 2018ء سے 2022ء تک عراق کے صدر کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کا شمار خطے کے ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے تنازعات، سیاسی عدم استحکام اور انسانی بحرانوں کے دوران مصالحت، مکالمے اور بین الاقوامی تعاون پر زور دیا۔
اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی اس وقت دنیا بھر میں بے گھر افراد، جنگ زدہ آبادیوں اور پناہ گزینوں کو درپیش شدید چیلنجز سے نمٹ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق بیرھم صالح کی تقرری ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب عالمی سطح پر مہاجرین کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے اور ادارے کو مضبوط قیادت کی اشد ضرورت ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیرھم صالح کا بین الاقوامی تجربہ، سفارتی بصیرت اور بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کو درپیش انسانی ہمدردی کے چیلنجز سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ان کی قیادت میں ادارے سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ پناہ گزینوں کے تحفظ، بحالی اور عالمی تعاون کو مزید مؤثر بنائیں گے۔
