تحریک انصاف نے انٹر سروسز انٹیلیجنس کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو سنائی گئی سزا پر اپنا مؤقف دوٹوک انداز میں واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ مکمل طور پر فوج کے اندرونی نظم و احتساب سے متعلق ہے، جس پر سیاسی جماعت کا کوئی تبصرہ مناسب نہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی کا ٹرائل، سزا اور عدالتی کارروائی عسکری ادارے کے اپنے قوانین اور طریقۂ کار کے تحت ہوئی ہے، لہٰذا تحریک انصاف اس پر کوئی رائے دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب گرفتاری عمل میں آئی تھی تب بھی پارٹی کا یہی اصولی مؤقف تھا کہ فوج اپنے معاملات خود دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
شیخ وقاص اکرم نے مزید کہا کہ اگر کسی مرحلے پر کسی سیاسی شخصیت کا نام سامنے آتا ہے تو متعلقہ فرد خود وضاحت دینے کا مجاز ہوگا۔ ان کے مطابق جب کسی ادارے کا احتساب اس کے اندرونی نظام کے تحت ہو رہا ہو تو کسی سیاسی جماعت کے لیے اس میں مداخلت یا تبصرہ کرنا مناسب نہیں۔
پی ٹی آئی ترجمان نے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس معاملے میں سیاسی عناصر کو بھی گھسیٹا جا سکتا ہے، حالانکہ تحریک انصاف نے ہمیشہ واضح کیا ہے کہ وہ ادارہ جاتی معاملات کو سیاست سے دور رکھنے کی حامی ہے۔
پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک میں آئینی بالادستی اور ادارہ جاتی خودمختاری کا تقاضا یہی ہے کہ ہر ادارہ اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے احتساب کرے، اور سیاسی جماعتیں ایسے معاملات کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کریں۔
