چین میں ایک انجینیئر کو بار بار اور طویل عرصے تک باتھ روم جانے کی بنیاد پر نوکری سے نکالے جانے کا انوکھا مگر متنازع واقعہ سامنے آ گیا ہے، جس نے ملازمین کے حقوق اور دفتری نظم و ضبط پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ہانگ کانگ کے معروف اخبار ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کے مطابق جیانگ سو صوبے سے تعلق رکھنے والے انجینیئر لی کو اپریل سے مئی 2024 کے دوران ایک ماہ میں 14 مرتبہ طویل باتھ روم بریکس لینے پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا، جن میں ایک بریک چار گھنٹے تک جاری رہی۔ لی کا مؤقف تھا کہ وہ بواسیر (Hemorrhoids) کے مرض میں مبتلا ہیں، جس کے باعث انہیں بار بار بیت الخلا جانا پڑتا تھا۔
معاملہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب شنگھائی فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز نے لی کی جانب سے کمپنی کے خلاف غیر قانونی برطرفی کے مقدمے کی تفصیلات جاری کیں۔ لی نے عدالت میں بطور ثبوت اپنی بیماری سے متعلق ادویات، جنوری میں ہسپتال میں داخلے اور سرجری کے ریکارڈ بھی پیش کیے اور کمپنی سے 3 لاکھ 20 ہزار یوآن معاوضے کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب کمپنی نے عدالت میں نگرانی کیمروں کی فوٹیجز پیش کیں، جن میں لی کو بار بار اور طویل وقت کے لیے باتھ روم جاتے ہوئے دکھایا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ لی کا باتھ روم میں گزارا گیا وقت عام جسمانی ضرورت سے کہیں زیادہ تھا، جبکہ پیش کردہ طبی ریکارڈ اس مدت کے بعد کا ہے جب وہ مسلسل غیر حاضر رہے۔ مزید یہ کہ لی نے نہ تو بیماری کے بارے میں کمپنی کو پیشگی اطلاع دی اور نہ ہی معاہدے کے مطابق میڈیکل چھٹی کی درخواست دی۔
عدالتی کارروائی کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ لی کی ملازمت کی نوعیت ایسی تھی جس میں کام کے دوران ہر وقت پیغامات کا جواب دینا لازمی تھا، مگر باتھ روم بریکس کے دوران کمپنی کی جانب سے چیٹ ایپ پر کیے گئے رابطوں کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ کمپنی کے قواعد کے مطابق بغیر اجازت کام چھوڑنا غیر حاضری شمار ہوتا ہے، اور 180 دن میں تین ورکنگ ڈیز غیر حاضر ہونے پر فوری برطرفی کی شق موجود تھی۔ کمپنی نے لیبر یونین سے اجازت لے کر ہی برطرفی کا فیصلہ کیا۔
بالآخر عدالت نے دونوں فریقین کے درمیان صلح کروا دی اور لی کی طویل ملازمت (2010 سے وابستگی اور 2014 میں مستقل معاہدہ) اور بے روزگاری کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے کمپنی کو 30 ہزار یوآن بطور انسانی ہمدردی امداد دینے پر آمادہ کر لیا۔ یہ کیس چین میں دفتری نگرانی، ملازمین کی نجی ضروریات اور طبی مسائل پر ایک اہم مثال بن گیا ہے۔
