موہالی:بھارتی ریاست پنجاب کے شہر موہالی میں جاری کبڈی ٹورنامنٹ کے دوران ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں نامعلوم حملہ آوروں نے سیلفی کے بہانے فائرنگ کر کے کبڈی کے کھلاڑی رانا بالاچوریا کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بھارتی پولیس کے مطابق، گزشتہ روز موٹر سائیکل پر سوار دو سے تین افراد کبڈی گراؤنڈ میں آئے اور کھلاڑیوں کے قریب جا کر تصویر لینے کا بہانہ کیا۔ اچانک انہوں نے رانا بالاچوریا پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں ان کے چہرے اور جسم کے اوپری حصے پر چار سے پانچ گولیاں لگیں۔ شدید زخمی ہونے کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
پولیس نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں اور اس مرحلے پر کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہے۔ واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور اسے گینگ وار کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ حملہ نہ صرف کھیل کے دوران پیش آیا بلکہ پس پردہ مقامی طاقتوں اور گروہوں کی ملی بھگت کا بھی شائبہ ہے۔
دریں اثنا، بدنام زمانہ بمبیہا گینگ نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں اس قتل کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ گینگ نے دعویٰ کیا ہے کہ رانا بالاچوریا نے پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے قاتلوں کو پناہ دی تھی، اور مقتول کا تعلق مبینہ طور پر جگو بھگوان پوریا اور لارنس بشنوئی کے مخالف گروہوں سے تھا۔ واقعے کے بعد، مقامی اور قومی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے، اور کبڈی کمیونٹی میں بھی خوف اور احتجاج کی لہر دوڑ گئی ہے۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق، پولیس نے کبڈی گراؤنڈ اور آس پاس کے علاقوں میں موجود سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہیں، اور تفتیشی ٹیم حملہ آوروں کی شناخت اور ان کے مقاصد جاننے میں مصروف ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف کھیلوں کی فضا کو متاثر کیا ہے بلکہ مقامی نوجوانوں میں بھی سلامتی کے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
