پٹنہ:بھارتی ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں ایک سرکاری تقریب کے دوران ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کے حجاب کو زبردستی اتارنے کی کوشش کے واقعے نے سوشل میڈیا اور سیاسی محاذ پر ہلچل مچا دی ہے۔ واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بھارتی عوام، مسلم صارفین، اپوزیشن جماعتیں اور حقوق نسواں کی تنظیمیں شدید غم و غصے کا اظہار کر رہی ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ متاثرہ خاتون ڈاکٹر اپنے اپائنٹمنٹ لیٹر حاصل کرنے کے لیے سرکاری تقریب میں موجود تھیں، لیکن اس موقع پر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ان کا نقاب اتارنے کی کوشش کی، جسے کئی حلقوں نے عورتوں کی عزت، مذہبی آزادی اور جسمانی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
کانگریس نے واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بہار کے وزیر اعلیٰ کا رویہ ناقابل قبول اور بدتمیزی پر مبنی ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ نتیش کمار فوری طور پر استعفیٰ دیں اور عوام سے معافی مانگیں۔ کانگریس نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی اس حرکت نے نہ صرف مسلم خواتین بلکہ بھارت کے تمام شہریوں کی آئینی اور مذہبی آزادی کو چیلنج کیا ہے۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے بھی اس واقعے پر بیان جاری کیا اور کہا کہ اگر کسی ریاست کا وزیر اعلیٰ خود اس قسم کا رویہ اختیار کر سکتا ہے تو مسلم خواتین کی حفاظت اور عزت کی ضمانت کون دے گا؟ انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔
سوشل میڈیا پر صارفین نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی۔ ایک صارف نے کہا کہ بھارت کے آئین (آرٹیکل 191(1)(ب)) کے تحت کسی شخص کی ذہنی حالت اور آئینی قابلیت کے بارے میں سوال اٹھایا جا سکتا ہے، اور عدلیہ کو بہار کے وزیر اعلیٰ کو نااہل قرار دینے کے اقدامات پر غور کرنا چاہیے۔ دوسرے صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ آئینی اختیار کے تحت ہر شہری کی عزت اور مذہبی آزادی کا احترام لازمی ہے، اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ ناقابل قبول ہے۔
ادھر مبصرین نے اس واقعے کو مودی حکومت میں عورت دشمنی اور اسلاموفوبیا کے سرکاری رجحان کے تناظر میں دیکھا ہے۔ صحافی اشوک سوائن نے لکھا کہ نتیش کمار کی اس حرکت سے بھارت میں عورتوں کی خودمختاری اور مذہبی آزادی پر شدید خطرہ پیدا ہوا ہے، اور یہ رویہ کسی بھی سماج کے لیے ناقابل قبول ہے۔
اپوزیشن جماعت راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے بھی وزیر اعلیٰ کے اس عمل کی مذمت کی اور ان کی نیت اور ذہنی کیفیت پر سوالات اٹھائے۔ پارٹی نے کہا کہ یہ واقعہ بھارت میں خواتین کے حقوق اور مذہبی آزادی کے حوالے سے ایک سنگین مسئلے کو جنم دیتا ہے، اور حکومت کو فوری طور پر عوامی جوابدہی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
اس واقعے نے بھارت میں مذہبی آزادی، خواتین کے حقوق، آئینی احترام اور عوامی جوابدہی کے مسائل پر ایک بار پھر بحث کو جنم دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے کا دیرپا حل نہ نکالا گیا تو یہ بھارت میں سماجی تناؤ اور مذہبی کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے۔
