وسطی پنجاب میں جنگلی حیات کی غیر قانونی اسمگلنگ کی ایک سنگین کوشش اس وقت بے نقاب ہوئی جب پنجاب وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے ایک مسافر گاڑی کو روک کر ہزاروں کی تعداد میں مردہ جنگلی پرندے برآمد کیے۔ یہ کارروائی ضلع خانیوال میں عمل میں لائی گئی، جہاں حکام نے بروقت اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے ایک بڑے غیر قانونی نیٹ ورک کا سراغ لگایا، جو کراچی سے پنجاب کے مختلف علاقوں تک جنگلی پرندوں کی ترسیل میں ملوث تھا۔
محکمہ وائلڈ لائف کے ذرائع کے مطابق انہیں قابلِ اعتماد اطلاع موصول ہوئی تھی کہ جنگلی پرندوں کی ایک بڑی کھیپ کراچی سے اوکاڑہ منتقل کی جا رہی ہے اور اس مقصد کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اطلاع ملتے ہی اعلیٰ حکام نے فوری طور پر ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی اور متعلقہ راستے پر نگرانی سخت کر دی گئی تاکہ مشتبہ گاڑی کو منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی روکا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے ایک اہم شاہراہ پر عارضی ناکہ قائم کیا گیا جہاں سندھ سے آنے والی مسافر بسوں کی کڑی نگرانی کی جا رہی تھی۔
یہ کارروائی ڈپٹی چیف وائلڈ لائف رینجر ملتان ڈاکٹر سجاد حسین کی نگرانی میں کی گئی، جبکہ اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر خانیوال منور حسین نجمی نے فیلڈ ٹیم کی قیادت کی۔ جیسے ہی کراچی سے آنے والی مشتبہ مسافر بس ناکے پر پہنچی، وائلڈ لائف اہلکاروں نے اسے روک کر تفصیلی تلاشی شروع کر دی۔ ٹیم نے بس کے سامان رکھنے والے حصوں اور کارگو ایریا کو بغور چیک کیا، کیونکہ اکثر غیر قانونی سامان انہی جگہوں پر چھپا کر لے جایا جاتا ہے۔
تلاشی کے دوران اہلکاروں کو مختلف پیکٹس اور تھیلے ملے جن میں بڑی تعداد میں جنگلی پرندے بھرے ہوئے تھے۔ جب ان تھیلوں کو کھولا گیا تو معلوم ہوا کہ تمام پرندے مردہ حالت میں ہیں اور انتہائی خراب اور غیر انسانی حالات میں منتقل کیے جا رہے تھے۔ حکام کے مطابق پرندوں کو اس قدر تنگ اور نامناسب انداز میں رکھا گیا تھا کہ ان کے زندہ بچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر تھے، جس کے نتیجے میں تمام پرندے ہلاک ہو چکے تھے۔
ابتدائی گنتی اور شناخت کے بعد وائلڈ لائف حکام نے تصدیق کی کہ برآمد ہونے والے پرندوں کی مجموعی تعداد 7 ہزار 702 ہے۔ ان میں 4 ہزار 304 چڑیاں شامل تھیں، جبکہ تقریباً 3 ہزار 200 مینا اور بلبل پرندے تھے۔ اس کے علاوہ 196 بطخیں اور دو تیتر بھی اس غیر قانونی کھیپ کا حصہ تھے۔ حکام نے بتایا کہ یہ تمام پرندے عام طور پر غیر قانونی تجارت میں زیادہ نشانہ بنائے جاتے ہیں، کیونکہ ان کی مارکیٹ میں مانگ موجود ہوتی ہے۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ یہ کھیپ ایک شخص کے نام پر بک کروائی گئی تھی جس کی شناخت رفیق کے نام سے ہوئی ہے اور اس کا تعلق ضلع اوکاڑہ سے بتایا جا رہا ہے۔ وائلڈ لائف حکام کے مطابق اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ پرندے اوکاڑہ یا اس کے گرد و نواح میں غیر قانونی طور پر فروخت کیے جانے تھے۔ حکام نے بس بکنگ کے ریکارڈ اور دیگر دستاویزات کی جانچ شروع کر دی ہے تاکہ اس غیر قانونی کارروائی میں ملوث تمام افراد تک پہنچا جا سکے۔
پنجاب وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے واقعے کے بعد متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نامزد شخص کو گرفتار کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں اور یہ بھی جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا اس اسمگلنگ میں مزید افراد یا گروہ شامل تھے یا نہیں۔ ضرورت پڑنے پر دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی تعاون حاصل کیا جائے گا تاکہ اس نیٹ ورک کی جڑ تک پہنچا جا سکے۔
سینئر وائلڈ لائف افسران نے اس کارروائی کو ایک اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی اسمگلنگ نہ صرف ملکی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ ماحولیات اور قدرتی توازن کے لیے بھی شدید نقصان دہ ہے۔ ان کے مطابق چڑیاں، مینا اور دیگر پرندے قدرتی نظام میں کیڑوں پر قابو پانے اور بیج پھیلانے جیسے اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور ان کی بڑی تعداد میں ہلاکت یا گرفتاری ماحولیاتی توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔
حکام نے اس پہلو پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ جنگلی پرندوں کی نقل و حمل کے دوران شدید ظلم کیا جاتا ہے۔ اکثر پرندوں کو زندہ حالت میں پکڑ کر تنگ تھیلوں یا پنجروں میں بند کر دیا جاتا ہے، جہاں وہ خوراک، ہوا اور پانی کی کمی کے باعث مر جاتے ہیں۔ اس واقعے میں ہزاروں مردہ پرندوں کی برآمدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اسمگلرز کس قدر بے رحمی سے اس غیر قانونی تجارت میں ملوث ہیں۔
محکمہ وائلڈ لائف نے واضح کیا کہ صوبے بھر میں نگرانی مزید سخت کی جا رہی ہے، خاص طور پر ان راستوں پر جہاں سے غیر قانونی طور پر جنگلی حیات کی ترسیل کا خدشہ رہتا ہے۔ حکام نے عوام اور ٹرانسپورٹ مالکان سے بھی اپیل کی کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان میں جنگلی حیات کو درپیش خطرات اب بھی موجود ہیں اور غیر قانونی شکار و تجارت کے خلاف مسلسل اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ وائلڈ لائف حکام کو امید ہے کہ اس کیس میں ہونے والی گرفتاریوں سے نہ صرف اس نیٹ ورک کو توڑا جا سکے گا بلکہ مستقبل میں ایسے جرائم کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی، جس سے قدرتی وسائل اور جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
