سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھکر میں درج ایک ریپ کیس کو زبردستی زیادتی کے بجائے رضامندی سے زنا (فورنیکیشن) قرار دیتے ہوئے ملزم کی سزا میں نمایاں کمی کر دی ہے۔
جسٹس شہزاد خان کی جانب سے تحریر کردہ 6 صفحات پر مشتمل اکثریتی فیصلہ جاری کر دیا گیا، جس میں جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس نعیم اختر افغان نے فیصلے سے اتفاق کیا، جبکہ جسٹس صلاح الدین پنہوار نے اختلافی نوٹ تحریر کیا۔
عدالتِ عظمیٰ نے فیصلے میں قرار دیا کہ یہ کیس زبردستی ریپ کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ شواہد کی روشنی میں یہ رضامندی سے جنسی تعلق کا معاملہ ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ رضامندی سے زنا قرار دیے جانے کی صورت میں مدعیہ بھی قانونی طور پر ملزمہ بنتی ہے، تاہم چونکہ اس کے خلاف کوئی چالان پیش نہیں کیا گیا، اس لیے اسے سزا نہیں دی جا سکتی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ بڑے جرم (ریپ) کے الزام میں ناکامی کی صورت میں عدالت چھوٹے جرم (فورنیکیشن) میں سزا دے سکتی ہے۔ عدالت نے ملزم کی 20 سال قید بامشقت کی سزا ختم کر کے 5 سال قید بامشقت کر دی، جبکہ جرمانہ 5 لاکھ روپے سے کم کر کے 10 ہزار روپے مقرر کیا گیا۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ملزم کو مزید 2 ماہ قید بھگتنا ہوگی۔
فیصلے کے مطابق، بھکر میں 2015 میں درج ایف آئی آر میں خاتون نے الزام عائد کیا تھا کہ صبح ساڑھے پانچ بجے جنگل میں اسے پستول کے زور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ ایف آئی آر واقعے کے تقریباً سات ماہ بعد درج کی گئی، جس کی کوئی تسلی بخش وضاحت پیش نہیں کی جا سکی۔
عدالت نے استغاثہ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مدعیہ کا مخصوص وقت پر جنگل میں آنا، اور ملزم کو اس کی موجودگی کا پیشگی علم ہونا، ایسے نکات ہیں جن پر پراسیکیوشن خاموش رہی۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ مدعیہ نے وقوعے کے وقت کوئی مزاحمت نہیں کی اور میڈیکل رپورٹ میں تشدد یا زخموں کے کوئی واضح نشانات موجود نہیں تھے۔
سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ متاثرہ خاتون کے کپڑے بطور ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیے گئے اور نہ ہی یہ ثابت ہو سکا کہ کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ عدالت کے مطابق واقعہ رہائشی علاقے کے قریب پیش آیا، تاہم مدعیہ کی جانب سے شور مچانے یا کسی کو مدد کے لیے بلانے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
عدالت نے ڈی این اے رپورٹ کے حوالے سے حتمی رائے دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ڈی این اے شواہد کی قانونی حیثیت اور صداقت کا تعین کسی دوسرے مناسب کیس میں کیا جائے گا۔ تاہم عدالت نے یہ ضرور قرار دیا کہ جنسی تعلق کا ہونا مدعیہ کے بیان اور طبی شواہد سے ثابت ہوتا ہے۔
یہ فیصلہ ملک میں ریپ اور رضامندی کے قانونی معیارات، شواہد کے تقاضوں اور عدالتی تشریح کے حوالے سے ایک اہم نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
