اسلام آباد ہائیکورٹ نے گزشتہ روز جسٹس طارق محمود جہانگیری کے ڈگری کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے انہیں عہدے کے لیے نااہل قرار دے دیا۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل بینچ نے محفوظ فیصلہ سنایا، جس میں واضح کیا گیا کہ جسٹس طارق محمود کی ایل ایل بی ڈگری درست نہیں تھی، اور اس کی بنیاد پر وہ نہ تو ہائی کورٹ کے جج بننے کے اہل تھے اور نہ ہی وکیل کے طور پر قانونی خدمات انجام دینے کے قابل ہیں۔ عدالت نے تحریری حکم نامے میں مزید کہا کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کے چیف جسٹس پر تعصب کے دعوے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔
سماعت کے دوران کراچی یونیورسٹی کے رجسٹرار نے عدالت میں ڈگری کا اورِجنل ریکارڈ پیش کیا، جس کے بعد ججز نے دلائل مکمل ہونے پر چیمبر میں فیصلہ محفوظ کر لیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں تفصیل سے نشاندہی کی کہ متاثرہ جج کی تعلیمی دستاویزات میں شفافیت نہ ہونا اور وکیل یا جج بننے کی قانونی قابلیت سے متعلق اہم تقاضوں کی خلاف ورزی کی وجہ سے ان کی تقرری غیر قانونی اور آئینی طور پر چیلنج قابل تھی۔
فیصلے کے مطابق، جسٹس طارق محمود جہانگیری کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات مسترد کر دیے گئے اور رجسٹرار کراچی یونیورسٹی کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ایل ایل بی ڈگری کا اصل ریکارڈ 18 دسمبر کو عدالت میں پیش کریں، جو عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے مزید کہا کہ جن نکات پر استغاثہ خاموش رہا، ان میں یہ شامل تھا کہ مدعیہ کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات اور دستاویزات کی تصدیق مناسب طریقے سے نہیں ہوئی، جس سے قانونی شفافیت کے تقاضے پورے نہیں ہوئے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی شفافیت اور قانونی اہلیت عدلیہ میں اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ عدالتی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ملک میں ججوں کی تعلیمی قابلیت، قانونی معیار اور عدالتی شفافیت کے لیے ایک اہم مثالی نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ فیصلے کے بعد قانونی اور سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے کہ مستقبل میں عدلیہ میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نئے اقدامات اور سخت ضوابط کی ضرورت ہے تاکہ عدالتی نظام میں عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہو۔
