لاہور میں بڑھتی ہوئی سموگ اور فضائی آلودگی کے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک معروف ٹرانسپورٹ کمپنی کے زیر اہتمام ایک اہم مکالمے (Dialogue Session) کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماہرینِ ماحولیات، ٹرانسپورٹ سیکٹر سے وابستہ افراد، پالیسی سازوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مکالمے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اگر لاہور کو سموگ سے بچانا ہے تو پائیدار اور ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فوری اور وسیع پیمانے پر فروغ دینا ہوگا۔
شرکاء نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ ہر سال سردیوں کے موسم میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں شامل ہو جاتا ہے، جس کی بنیادی وجہ پرانی اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں، ناقص ایندھن، ٹریفک کا بے ہنگم دباؤ اور شہری منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر فضائی آلودگی میں سب سے بڑا حصہ دار ہے، جسے جدید ٹیکنالوجی کے بغیر کنٹرول کرنا ممکن نہیں۔
مکالمے کے دوران ماہرین نے واضح کیا کہ الیکٹرک گاڑیاں (EVs) نہ صرف کاربن اخراج میں نمایاں کمی لا سکتی ہیں بلکہ ایندھن پر انحصار کم ہونے سے قومی معیشت کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے کئی بڑے شہر الیکٹرک ٹرانسپورٹ کی جانب کامیابی سے منتقل ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان میں اس سمت میں پیش رفت ابھی سست ہے۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت کو چاہیے کہ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ٹیکس میں رعایت، سبسڈی، آسان قرضے اور چارجنگ انفراسٹرکچر فراہم کرے تاکہ عام شہری بھی اس ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو اپنانے کے قابل ہو سکیں۔
ماہرین صحت نے مکالمے میں بتایا کہ سموگ کے باعث سانس، دل اور آنکھوں کی بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر بچوں، بزرگوں اور خواتین پر پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ چند برسوں میں لاہور کو صحت کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین نے نشاندہی کی کہ سموگ نہ صرف صحت بلکہ تعلیم، معیشت اور روزمرہ زندگی کو بھی بری طرح متاثر کر رہی ہے، جس کے باعث دفاتر، اسکول اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔
ٹرانسپورٹ کمپنی کے نمائندوں نے کہا کہ سموگ جیسے پیچیدہ مسئلے کا حل صرف حکومتی اقدامات سے ممکن نہیں، بلکہ نجی شعبے، ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور عوام کو بھی مشترکہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی کمپنی آئندہ مرحلے میں الیکٹرک بسوں اور دیگر ماحول دوست سفری سہولیات کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔
مکالمے کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ لاہور کو صاف اور قابلِ رہائش شہر بنانے کے لیے پائیدار ٹرانسپورٹ سسٹم ناگزیر ہے اور الیکٹرک گاڑیوں کی جانب منتقلی کے بغیر سموگ پر قابو پانا ممکن نہیں۔
