واشنگٹن/بحرِ عرب:امریکی بحریہ نے مشرقِ وسطیٰ میں پہلی مرتبہ کم لاگت خودکش ڈرون ’’لوکس‘‘ (LUCAS) کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے، جسے امریکی دفاعی حکام خطے میں عسکری حکمتِ عملی کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دے رہے ہیں۔
امریکی بحریہ کے مطابق یہ تجربہ انڈی پینڈنس کلاس لِٹورل کامبیٹ شپ یو ایس ایس سانتا باربرا سے کیا گیا، جو اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہے۔ بحریہ نے اس کامیابی کو اپنی نوعیت کا پہلا کارنامہ قرار دیا ہے، جو خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دو ہفتے قبل امریکی فوج نے خطے میں ٹاسک فورس اسکارپین اسٹرائیک (TFSS) کے قیام کا اعلان کیا تھا، جسے جدید کم لاگت لوکس خودکش ڈرونز سے لیس کیا گیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس فورس کا مقصد خطے میں تیزی سے بدلتے خطرات کا کم خرچ مگر مؤثر جواب دینا ہے۔
امریکی بحریہ کے سرکاری بیان کے مطابق 16 دسمبر کو امریکی سینٹرل کمانڈ کے تحت کام کرنے والی ٹاسک فورس 59 کے اہلکاروں نے یو ایس ایس سانتا باربرا کے فلائٹ ڈیک سے راکٹ کی مدد سے لوکس ڈرون لانچ کیا، جس نے کامیابی سے اپنا مقررہ ہدف حاصل کیا۔
مشرقِ وسطیٰ میں تعینات لوکس ڈرونز کی مکمل تکنیکی تفصیلات تاحال خفیہ رکھی گئی ہیں، تاہم دفاعی ذرائع کے مطابق یہ ڈرون ایرانی شاہد-136 ڈرون کی براہِ راست ریورس انجینئرنگ کے ذریعے تیار کیا گیا ہے، جو حالیہ برسوں میں مختلف تنازعات میں استعمال ہو چکا ہے۔
تقریباً 10 فٹ لمبائی اور لگ بھگ 8 فٹ پروں کے پھیلاؤ کے ساتھ لوکس ڈرون ایرانی شاہد ڈرون کے مقابلے میں قدرے چھوٹا ہے، تاہم امریکی حکام کے مطابق یہ کم لاگت ہونے کے باوجود انتہائی مؤثر، درست نشانہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لوکس ڈرون کی تعیناتی امریکا کی اس نئی حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے جس کے تحت مہنگے ہتھیاروں کے بجائے سستے مگر زیادہ تعداد میں استعمال ہونے والے ڈرونز پر انحصار بڑھایا جا رہا ہے، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ جیسے حساس خطے میں۔
