ملتان کے سب سے بڑے سرکاری طبی ادارے نشتر اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں پیش آنے والے ایک انتہائی افسوسناک واقعے نے نہ صرف مریضوں کے لواحقین کو شدید غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ اسپتال انتظامیہ اور طبی عملے کے رویے پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ واقعہ 18 دسمبر 2025 کی رات تقریباً 8 بجے پیش آیا، جب ایک مریضہ کو تشویشناک حالت میں نشتر اسپتال کی ایمرجنسی میں لایا گیا، جہاں ڈاکٹرز نے فوری طور پر خون کی ضرورت کا عندیہ دیا، مگر اس کے باوجود بروقت خون کی فراہمی ممکن نہ بنائی جا سکی۔
لواحقین کے مطابق مریضہ کی حالت نازک ہوتی جا رہی تھی اور وہ بار بار اسپتال عملے اور ایمرجنسی میں موجود ڈاکٹر سے خون کی فوری فراہمی کی درخواست کرتے رہے، مگر ان کی فریاد کو مسلسل نظرانداز کیا گیا۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ دو گھنٹے سے زائد وقت گزر جانے کے باوجود خون کا بندوبست نہ کیا گیا، جس سے مریضہ کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے۔ اس دوران لواحقین شدید ذہنی کرب اور بے بسی کا شکار رہے اور خود ہی خون کے انتظام کی کوششیں کرتے رہے۔
ورثا نے الزام عائد کیا ہے کہ جب وہ بار بار ایمرجنسی میں موجود ڈاکٹر سے مدد کے لیے رجوع کر رہے تھے تو مذکورہ ڈاکٹر نے نہایت غیر ذمہ دارانہ اور غیر اخلاقی رویہ اختیار کیا۔ لواحقین کے مطابق ڈاکٹر نے نہ صرف تعاون سے انکار کیا بلکہ ان کے سامنے کھڑے ہو کر نازیبا اشارہ بھی کیا، جو اس نازک موقع پر ان کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ ورثا کا کہنا ہے کہ وہ ہاتھ جوڑ کر منتیں کرتے رہے، مگر انسانی ہمدردی کا ذرا سا مظاہرہ بھی نہیں کیا گیا، جبکہ مریضہ خون کی شدید کمی کے باعث تکلیف میں مبتلا تھی۔
واقعے کے سامنے آنے کے بعد نشتر اسپتال کی انتظامیہ نے فوری طور پر معاملے کا نوٹس لیا۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نشتر اسپتال ملتان نے ابتدائی تحقیقات کے بعد ڈاکٹر قاسم جمال ولد محمد انور کو معطل کرتے ہوئے واقعے کی مکمل اور شفاف انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق اس طرح کا رویہ اسپتال کے ضوابط، طبی اخلاقیات اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے سراسر منافی ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حقائق کی روشنی میں مزید سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اس افسوسناک واقعے نے نشتر اسپتال کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور عوامی حلقوں میں سرکاری اسپتالوں میں مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ شہریوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی مریض یا اس کے اہلِ خانہ کو اس طرح کی اذیت، بے حسی اور غیر انسانی سلوک کا سامنا نہ کرنا پڑے
