بغداد:پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے عراق کے ساتھ دو طرفہ تجارتی، سیاحتی اور زرعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان عراق کے ساتھ مذہبی سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور افرادی قوت کے تبادلے میں بھی وسعت کا خواہاں ہے۔
صدر آصف علی زرداری ان دنوں عراق کے چار روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ اپنے دورے کے دوران عراقی قیادت سے ملاقاتوں میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کو ایک جامع اقتصادی اور عوامی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے۔ صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان عراق میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے اور زرعی شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے۔
ہفتے کے روز بغداد پہنچنے پر صدر پاکستان کا استقبال عراقی وزیر ثقافت ڈاکٹر احمد فکاک البدرانی نے کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یاد رہے کہ پاکستان اور عراق کے درمیان 1947 سے سفارتی تعلقات قائم ہیں، جو وقت کے ساتھ مزید گہرے اور ہمہ جہت ہوتے چلے گئے ہیں۔ دونوں ممالک مذہبی، ثقافتی اور عوامی روابط کے ذریعے ایک مضبوط رشتہ رکھتے ہیں۔
پاکستان کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق صدر زرداری کی عراقی قیادت کے ساتھ متوقع ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات میں اضافہ، تجارت و سرمایہ کاری، توانائی، تعمیر نو، ٹیکنالوجی، تعلیم اور عوامی روابط کے فروغ سے متعلق امور زیر بحث آئیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
صدر زرداری نے افرادی قوت کے تبادلے اور زرعی شعبے میں تعاون کو بھی باہمی مفاد کے اہم شعبے قرار دیا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
سیاسی و سفارتی حلقوں کے مطابق صدر زرداری کا یہ دورہ پاکستان اور عراق کے درمیان دو طرفہ شراکت داری کو نئی سمت دینے میں اہم ثابت ہو سکتا ہے اور اقتصادی و سفارتی تعاون میں عملی پیش رفت کا باعث بنے گا۔
واضح رہے کہ اس ماہ کے آغاز میں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی عراق کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے عراقی وزیر داخلہ عبدالامیر الشماری سے ملاقات کی۔ دونوں وزرائے داخلہ کی برسلز میں ہونے والی ملاقات میں بھی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، جس میں عراق جانے والے پاکستانی زائرین کے سفر کو زیادہ محفوظ، آسان اور منظم بنانے کے لیے قواعد و ضوابط پر زور دیا گیا۔
