راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے پارٹی پالیسی اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر واضح اور سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی لیڈر مذاکرات کی بات کرتا ہے، اس کا نہ تو عمران خان سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی وہ پاکستان تحریک انصاف کا نمائندہ ہے۔
انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے پارٹی کو کسی بھی قسم کی ڈیل یا مذاکرات کے بجائے اسٹریٹ موومنٹ کا واضح پیغام دے دیا ہے، جس پر عملدرآمد کی ذمہ داری خیبر پختونخوا کی قیادت کو سونپی جا چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور پارٹی کے اندر یا باہر کسی بھی قسم کے بیک ڈور رابطوں، مفاہمت یا مذاکرات کی باتیں ذاتی مفادات پر مبنی ہیں، جن کا بانی پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ بعض عناصر جان بوجھ کر پارٹی بیانیے کو کمزور کرنے اور کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم عمران خان کی پالیسی بالکل واضح ہے کہ حقیقی آزادی کی جدوجہد سڑکوں پر عوام کے ساتھ ہو گی، نہ کہ بند کمروں میں۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے دو روزہ کنونشن سے متعلق سوال پر علیمہ خان نے کہا کہ انہیں اس کانفرنس کے اعلامیے کے بارے میں کوئی علم نہیں اور نہ ہی عمران خان نے اس حوالے سے کوئی ہدایت جاری کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی توجہ اس وقت صرف عوامی تحریک، آئین کی بالادستی اور حقیقی جمہوریت کی بحالی پر مرکوز ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق علیمہ خان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پارٹی کے اندر مذاکرات یا مفاہمت سے متعلق مختلف آراء سامنے آ رہی تھیں، تاہم ان کے تازہ بیان نے پی ٹی آئی کے اندر پالیسی لائن کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے۔
