اسلام آباد:تحریکِ انصاف کے سینئر رہنما سلمان اکرم راجہ نے حکومت سے مذاکرات کے معاملے پر واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سے بات چیت کا اختیار پی ٹی آئی کے بجائے اپوزیشن اتحاد کے پاس ہے، جس کی قیادت محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کر رہے ہیں۔
نجی چینل سے خصوصی گفتگو میں سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ حکومت سے مذاکرات پی ٹی آئی نہیں بلکہ اپوزیشن اتحاد کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات کا ماحول ہی موجود نہیں کیونکہ ایک طرف پارٹی رہنماؤں پر مقدمات قائم ہیں اور دوسری طرف بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت تک نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ہمارے خلاف مقدمات ہوں، سیاسی انتقام جاری ہو اور بانیٔ پی ٹی آئی کو تنہائی میں رکھا جائے تو پھر مذاکرات کیسے ممکن ہیں؟”
سلمان اکرم راجہ نے محمود خان اچکزئی کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل درست بات ہے کہ جس نے چوری کی ہو، اس سے کیسے بات کی جا سکتی ہے؟ مذاکرات سے پہلے یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ پورے نظام نے مل کر عوام کی رائے پر ڈاکا ڈالا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اور ریاستی ادارے اس ڈاکے کو تسلیم کر لیں تو شفاف انتخابات کی طرف پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم اگر چوری مانے بغیر بات چیت کرنا مقصود ہے تو پھر پی ٹی آئی اس عمل کا حصہ نہیں بنے گی۔
انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ اگر بغیر تسلیم کیے بات کرنی ہے تو کسی اور کو مذاکرات کے لیے تلاش کر لیں۔
دوسری جانب بانیٔ پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے مذاکرات کی حمایت کرنے والوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ مذاکرات کی بات کر رہے ہیں، وہ بانیٔ پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے نہیں ہیں۔”
ادھر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے علیمہ خان کے بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ا گر محمود خان اچکزئی کے پاس مذاکرات کا مینڈیٹ ہے تو وہ آگے بڑھ کر بات کر سکتے ہیں۔”
سیاسی مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کے اندر اور اپوزیشن اتحاد کے بیانیے میں یہ اختلاف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ موجودہ سیاسی بحران میں مذاکرات کا عمل شدید ابہام کا شکار ہے اور آنے والے دنوں میں یہ معاملہ ملکی سیاست میں مزید ہلچل پیدا کر سکتا ہے۔
