لاہور:پیپلز لیبر بیورو کے انچارج چوہدری منظور نے حکومت کی جانب سے قومی ایئر لائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس معاملے پر قوم کو گمراہ کر رہی ہے اور یہ نجکاری مستقبل میں ایک بڑے اسکینڈل کی صورت اختیار کرے گی۔
لاہور سے جاری اپنے بیان میں چوہدری منظور نے کہا کہ جس گھر کے برتن بیچے جائیں، اس کی جیت کیسے ہو سکتی ہے؟ پی آئی اے پاکستان کا قیمتی قومی اثاثہ ہے جسے اونے پونے داموں فروخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ پی آئی اے کے مجموعی اثاثے ہزاروں ارب روپے کے ہیں اور اس کے باوجود حکومت خسارے کا بیانیہ بنا کر نجکاری کا جواز پیش کر رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پی آئی اے نے گزشتہ سال 26 ارب روپے کا منافع کمایا۔
چوہدری منظور کے مطابق پی آئی اے کے 30 طیاروں کی مالیت تقریباً 100 ارب روپے بنتی ہے، جبکہ ادارے کے ملازمین کا پروویڈنٹ فنڈ 20 ارب روپے ہے۔ اس کے علاوہ پی آئی اے کی 8 قیمتی عمارتیں تقریباً 50 ارب روپے کی ہیں، جبکہ 10 ارب روپے مالیت کے اسپیئر پارٹس اور ہینگرز بھی ادارے کے اثاثوں میں شامل ہیں۔
پیپلز لیبر بیورو کے انچارج نے کہا کہ تمام حقائق کے باوجود پی آئی اے کی نجکاری سراسر ناانصافی اور ظلم ہے۔ حکومت جان بوجھ کر اصل اعداد و شمار چھپا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے پر تنخواہوں کا بوجھ محض 16 فیصد ہے، اس کے باوجود ملازمین کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
چوہدری منظور نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر نجکاری کے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے اور قومی اثاثوں کو فروخت کرنے کے بجائے ادارے کی بہتری کے لیے سنجیدہ اصلاحات متعارف کروائے۔
