ڈھاکہ :پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید سفارتی کشیدگی کے باوجود ایک غیر متوقع اور اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر سبرامنیم جے شنکر نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقات کی اور دونوں رہنماؤں کے درمیان مصافحہ بھی ہوا۔ اس ملاقات کو سیاسی و سفارتی حلقوں میں ایک حیران کن مگر معنی خیز پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ ملاقات بنگلادیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں ہوئی، جہاں دونوں رہنما بنگلادیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت کے لیے موجود تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر خود چل کر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے پاس آئے، دونوں نے مصافحہ کیا اور خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جس سے ماحول میں غیر معمولی نرمی محسوس کی گئی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ ملاقات مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر ہونے والا پہلا براہِ راست رابطہ ہے، جس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ جنگ کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام سیاسی اور سفارتی روابط معطل ہو چکے تھے اور دونوں جانب سخت بیانات کا سلسلہ جاری تھا۔
یاد رہے کہ مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ کے بعد تعلقات اس نہج پر پہنچ گئے تھے کہ بھارت نے نہ صرف سفارتی سطح پر رابطے ختم کر دیے بلکہ کھیلوں کے میدان میں بھی سختی دکھائی گئی۔ بھارت نے اپنی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے منع کر دیا تھا، تاہم دیگر کھیلوں میں دونوں ممالک کے کھلاڑیوں کے درمیان روایتی مصافحے برقرار رہے، جسے کھیل اور سیاست کے فرق کے طور پر دیکھا گیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ڈھاکا میں ہونے والی یہ ملاقات رسمی اور مختصر تھی، تاہم اس کی علامتی اہمیت غیر معمولی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے مواقع بعض اوقات منجمد سفارتی برف کو پگھلانے میں ابتدائی کردار ادا کرتے ہیں، خاص طور پر جب دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے مکمل طور پر منقطع ہوں۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اس سے قبل گزشتہ برس پاکستان میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد آئے تھے، جہاں ان کی پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات کو بھی اس وقت سفارتی لحاظ سے ایک اہم پیشرفت سمجھا گیا تھا۔
ڈھاکا میں ہونے والی حالیہ ملاقات کے بعد سفارتی حلقوں میں یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ آیا یہ محض ایک رسمی اور پروٹوکول نوعیت کی ملاقات تھی یا اس کے ذریعے مستقبل میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی ممکنہ سفارتی رابطے کی راہ ہموار ہورہی ہے۔ تاہم دونوں جانب سے فی الحال اس ملاقات کو غیر رسمی قرار دیا جا رہا ہے۔
