چینی صدر شی جن پنگ نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ چین اور تائیوان کا دوبارہ ایک ہونا ایک تاریخی حقیقت ہے جسے کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ نئے سال کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں پر بسنے والے چینی باشندے خون، ثقافت اور رشتہ داری کے مضبوط بندھن میں جڑے ہوئے ہیں۔
صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ مادرِ وطن کا دوبارہ ملاپ وقت کی پکار ہے اور تاریخ کا دھارا اسی سمت میں بہہ رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ چین ہمیشہ تاریخ کی درست سمت پر کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی عالمی امن، ترقی اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے لیے دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین نے تائیوان کے قریب دو روزہ فوجی مشقیں مکمل کیں۔ یہ مشقیں امریکا کی جانب سے تائیوان کو 11 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے جدید ہتھیار فروخت کرنے کی منظوری کے چند ہی دن بعد کی گئیں، جسے بیجنگ نے خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
اپنے خطاب میں صدر شی جن پنگ نے کہا کہ آبنائے تائیوان کے دونوں جانب بسنے والے ہم سب چینی ہیں اور ہمارے درمیان نہ صرف مشترکہ تاریخ بلکہ خونی رشتہ بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی وحدت کا عمل کسی دباؤ یا رکاوٹ کا محتاج نہیں۔
چینی صدر نے ہر سال 25 اکتوبر کو "تائیوان ریکوری ڈے” منانے کے اعلان کو بھی سراہا، جو دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر تائیوان پر جاپانی قبضے کے خاتمے کی یاد میں منایا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ دن قومی خودمختاری اور تاریخی انصاف کی علامت ہے۔
صدر شی جن پنگ نے چین کی مصنوعی ذہانت (AI)، سیمی کنڈکٹرز اور خلائی صنعت میں غیر معمولی ترقی پر بھی فخر کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بڑے اے آئی ماڈلز میں عالمی برتری کی دوڑ جاری ہے اور چین نے جدید چِپس کی تحقیق و ترقی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہی سائنسی اور تکنیکی ترقی چین کو دنیا کی تیز ترین ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل کر چکی ہے اور مستقبل میں بھی چین جدت، خودانحصاری اور پائیدار ترقی کے سفر کو جاری رکھے گا
