جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینئر رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ اگر تمام اپوزیشن جماعتیں متفقہ طور پر مولانا فضل الرحمان کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرتی ہیں تو اس حوالے سے مشاورت کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے اندر اتفاقِ رائے کے بغیر کسی ایک جماعت کا فیصلہ مؤثر ثابت نہیں ہوگا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبدالغفور حیدری نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے فوری تقرر کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کا انتخاب آئینی اور جمہوری اصولوں کے مطابق اکثریتی اپوزیشن جماعت میں سے ہونا چاہیے تاکہ پارلیمان میں اپوزیشن کا کردار مضبوط ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اس منصب پر ماضی میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں اور انہیں پارلیمانی امور، قانون سازی اور قومی سیاست کا وسیع تجربہ حاصل ہے، جو موجودہ سیاسی حالات میں اپوزیشن کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں مولانا عبدالغفور حیدری نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان درپیش چیلنجز کا حل محاذ آرائی کے بجائے بات چیت اور سفارتی رابطوں کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے باعث پاکستان کے جوان مسلسل شہید ہو رہے ہیں، جو نہایت تشویشناک اور دردناک صورتحال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز نے قومی سلامتی کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
مولانا عبدالغفور حیدری نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی نہ کوئی مستقل اور پائیدار حل اب ناگزیر ہو چکا ہے، اور اس کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو اختلافات بالائے طاق رکھ کر قومی مفاد میں یکجا ہونا ہوگا۔
