کیوبا کی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ وینزویلا پر امریکی فوجی کارروائی کے دوران اس کے 32 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ دارالحکومت ہوانا سے جاری سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے اہلکار وینزویلا میں تعینات ایک سرکاری فوجی مشن کا حصہ تھے۔ کیوبا کی حکومت نے ان اہلکاروں کی یاد میں آج اور کل دو روزہ قومی سوگ منانے کا اعلان کیا ہے، جبکہ اسی دوران ہلاک ہونے والوں کی آخری رسومات بھی ادا کی جائیں گی۔
کیوبا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی آپریشن میں کیوبا کے سیکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔ ایجنسی کے مطابق یہ اہلکار وینزویلا کی حکومت کی باضابطہ درخواست پر وہاں تعینات تھے اور سیکیورٹی تعاون کے تحت خدمات انجام دے رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق کیوبا اور وینزویلا دیرینہ اتحادی ہیں اور کیوبا گزشتہ کئی برسوں سے وینزویلا کی مدد کے لیے اپنی فوج اور پولیس کے دستے وہاں بھیجتا رہا ہے۔
دوسری جانب وینزویلا کے وزیر دفاع ولادیمیر پیڈرینو نے امریکی کمانڈوز کی کارروائی کو ملک کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔ سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں پیڈرینو نے کہا کہ اس کارروائی کے دوران، جس کے نتیجے میں صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا گیا، ان کی سیکیورٹی ٹیم کا بڑا حصہ ہلاک ہو گیا ہے۔ تاہم انہوں نے ہلاکتوں کی درست تعداد بتانے سے گریز کیا۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی کارروائی نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ وینزویلا کی سالمیت، آزادی اور قومی وقار پر بھی سنگین حملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وینزویلا اس جارحیت کا ہر سطح پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
