وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی امریکی فوج کے ہاتھوں گرفتاری نے عالمی سفارت کاری میں ایک نیا اور سنجیدہ بحران پیدا کر دیا ہے، جسے چین کی بڑی سفارتی آزمائش قرار دیا جا رہا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق بیجنگ نے اس اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکا پر دنیا کا جج بننے کا الزام عائد کر دیا ہے۔
چین نے واضح اعلان کیا ہے کہ وہ وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کی قانونی حیثیت کو اقوامِ متحدہ میں چیلنج کرے گا، جبکہ چین اور روس کی حمایت سے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی تیاری بھی جاری ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں امریکا کو شدید عالمی دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بیجنگ میں پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کے دوران دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ملک خود کو عالمی پولیس یا عالمی جج قرار نہیں دے سکتا۔
انہوں نے کہا کہ تمام ریاستوں کی خودمختاری، سلامتی اور سیاسی نظام کا احترام بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت لازم ہے۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ بیجنگ عالمی رائے عامہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا اور دنیا کو یہ باور کرائے گا کہ عالمی تنازعات کا حل طاقت کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔ چین کا دعویٰ ہے کہ وہ موجودہ بحران کو پرامن راستے پر ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مادورو کی گرفتاری نہ صرف امریکا اور چین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کرے گی بلکہ اقوامِ متحدہ کے کردار، عالمی قانون اور طاقت کے استعمال پر ایک بڑی عالمی بحث کو بھی جنم دے گی۔
